لاہور:نویں کے امتحان میں اونکار سنگھ کے اسلامیات اور قرآن ترجمہ میں شاندار نمبرز

لاہور(نمائندہ خصوصی)نہم جماعت کے امتحانات میں لاہور بورڈ کے سکھ طالب علم اونکار سنگھ نے اسلامیات (لازمی) میں 100 میں سے 98 اور قرآن مجید کے ترجمہ میں 50 میں سے 49 نمبر حاصل کر کے اپنی محنت اور تعلیمی عزم کا اعلیٰ مظاہرہ کیا ہے، جس پر صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے انہیں شاباش دی اور حکومتی اور سرکاری اسکولوں میں کارکردگی کے مسائل پر سوال اٹھایا۔

اونکار سنگھ نے اسلامیات لازمی میں 100 میں 98 اور ترجمتہ القرآن المجید میں 50 میں 49 نمبر حاصل کیے۔ ان کے رزلٹ کارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اردو (75 میں سے 74)، انگریزی (75 میں سے 75)، ریاضیات (75 میں سے 75)، فزکس (60 میں سے 60)، کیمسٹری (60 میں سے 60) اور بائیولوجی (60 میں سے 59) نمبرزحاصل کرکے شاندار کارکردگی دکھائی تھی۔

لاہور بورڈ کے امتحانات میں اسلامیات اور ترجمۂ قرآن جیسے مضامین میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے والے سکھ طالب علم اونکار سنگھ نے ڈاکٹر بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔اونکار سنگھ اپنے والد ڈاکٹر منپال سنگھ کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں، جو شعبۂ طب میں نمایاں خدمات پر 2024 میں تمغۂ امتیاز حاصل کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر منپال سنگھ نے بیٹے کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف خاندان ہی نہیں بلکہ پوری سکھ برادری اور پاکستان کے عوام کیلئے فخر کا لمحہ ہے۔ ان کا کہنا تھا”محنت، لگن اور مثبت سوچ کے ساتھ انسان زندگی میں آگے بڑھ سکتا ہے۔”

اونکار سنگھ کی اس کامیابی کو پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی اور نوجوانوں کے عزم و حوصلے کی روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے اونکار کی اس نمایاں کامیابی پر انہیں “شاباش” دی اور سوال اٹھایا کہ “کیا مسلمانوں کے بچے جو اساتذہ کی کارکردگی کی وجہ سے فیل ہوتے ہیں، ان کا احتساب نہیں ہونا چاہیے؟”

پاکستان میں قومی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی مثال بننے والے اس واقعے نے خاصی توجہ حاصل کی ہے، خاص طور پر اس وقت جب سماجی اور تعلیمی شعبے میں روایتی فرق اور خامیاں موجود ہیں۔اونکار سنگھ کی شاندار کارکردگی نہ صرف تعلیمی محنت کی بہترین مثال ہے بلکہ یہ پیغام بھی ہے کہ تعصب اور مذہبی فرقوں سے بالاتر ہوکر قوم سب کو برابر مواقع فراہم کرے تو شاندار نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

اس سال لاہور بورڈ کا سالانہ نتیجہ مایوسی کا باعث ہے—پاس پرسنٹیج صرف 45% رہی، جس میں مبینہ طور پر حکومت اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں