ذرائع(وقائع نگار خصوصی)لاہور کی نجی یونیورسٹی میں 19 دسمبر کو خودکشی کرنے والے طالب علم اویس سلطان کے معاملے کی انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اویس سلطان نے فارمیسی بلڈنگ کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی تھی۔ ان کی حاضری ایک مضمون کے علاوہ دیگر تمام مضامین میں مناسب تھی، تاہم صبح کے وقت ہونے والے ایک مضمون میں حاضری کم رہی۔
انکوائری میں بتایا گیا ہے کہ اویس سلطان شدید ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار تھا اور انہوں نے کبھی کسی ماہر نفسیات سے علاج نہیں کروایا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہد کے مطابق طالب علم نے خود چھلانگ لگائی، اور فوری طور پر لاہور جنرل اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن ہر یونیورسٹی میں نفسیاتی مرکز قائم کریں، جہاں تجربہ کار پروفیسر اور اساتذہ طلبہ میں ذہنی دباؤ اور تناؤ سے متعلق آگاہی فراہم کریں۔واضح رہے کہ چند روز قبل یونیورسٹی میں ڈی فارم کے ایک اور طالب علم نے عمارت کی چوتھی منزل سے خودکشی کی تھی۔

