لندن(اشرف خان لودھی سے)انجمن تحریم اردوبرطانیہ ویورپ کے زیراہتمام معروف شاعرہ رخسانہ رخشی نے ایک اردومشاعرے کااہتمام کیاجس میں کراچی ،پاکستان اوربھارت سے آئے ہوئے کئی معروف شعرا،ادیب اوردیگرافرادنے شرکت کی۔

رخسانہ رخشی برطانیہ ویورپ کے ادبی حلقوں میں ایک جاناپہچانانام ہے انہیں ادب سے گہری محبت ہے ہم آپ کو تقریب میں شرکت کیلئے اندر لے کر چلتے ہیں، اور جو کچھ آپ یہاں پڑھیں گےیاسنیں گے وہ سب یقیناً آپ کیلئے فکری و ادبی طور پر فائدہ مندثابت ہوگا۔

رخسانہ رخشی نے حاضرین کواپناکلام سنایااوردادوصول کی ۔انہوں نے حاضرین محفل سے بات کرتے ہوئے مشاعرہ کی شرکت کرنے پران کاشکریہ اداکیا۔
میرا پیغام محبت ہے، جہاں تک پہنچے۔
نغمہ بادے سے ہے موج بہاراں بھی
نغمہ بادے سے ہے موج بہاراں بھی
دل کے ویرانے کوفردوس نگیں تم کردو
دل محبت کی رفاقت کی زمین حیرت کی
نفرتیں خواب ہی بن کے ڈس رہی ہیں
انجمن تحریم اردوبرطانیہ ویورپ کے زیراہتمام مشاعرے میں شریک ایک اورشاعرہ عظمیٰ نے اپناکلام سناتے ہوئے حاضرین مشاعرہ سے دل کھول کردادوصول کی ۔
کوئی بہانہ گِری آئے پہن کو اور بس
آواز دی بِنائے بھورے غم کو اور بس
دیوار میں چُنیں گے تو بدنام ہوں گے آپ
دیوار سے لگائے رکھی ہم کو اور بس
اور یہ گھاؤ ہے زباں کا، تلوار کا نہیں
رکھ دے جو آپ زخم پہ مرہم کو اور بس
سانس دینے کے لیے سب کو میسر ہے ہوا
اس سے بڑھ کر تو رعایت نہیں دی جا سکتی
اور تم کو راس آئے نہ آئے مِری بستی کی فضا
یہاں کسی جان کی ضمانت نہیں دی جا سکتی
اور زیست اور موت کا مالک یہ فسانہ کیا ہے؟
عمر کیوں حسبِ ضرورت نہیں دی جا سکتی؟
اور سوزِ دل تحفۂ قدرت ہے وگرنہ عظمیٰ
برف کو نرم حرارت نہیں دی جا سکتی
اور سر چھپانے کے لیے چھت نہیں دی جا سکتی
ہر کسی کو یہ سہولت نہیں دی جا سکتی
رفتہ رفتہ کھا جاتا ہے سب کو اپنا غم
جھکتے کاندھوں، کم ہوتی بینائی سے پوچھو
باپ کو کیسا روگ لگا ہے، ماں کو کیسا غم
دل کو پتھر کر لینے سے حاصل کیا ہوگا؟
پتھر کو بھی کھا جاتا ہے قطرہ قطرہ غم
زادِ غم ہو یا بزمِ طرب، کچھ بھی نہیں ہوتا
زبان مرہم رکھے یا زخم اب، کچھ بھی نہیں ہوتا
چلے آتے ہیں بے موسم کی بارش کی طرح آنسو
بسا اوقات، رونے کا سبب، کچھ بھی نہیں ہوتا

