لندن (نمائندہ خصوصی)غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف وسطی لندن میں اسٹاپ دی وار اور دیگر جنگ مخالف تنظیموں کے زیرِ اہتمام بڑے احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ شرکاء نے برطانوی حکومت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔
ہفتے کو ہونے والے مظاہرے کا آغاز رسل اسکوائر سے ہوا، جہاں سے شرکاء مختلف شاہراہوں سے گزرتے ہوئے وائٹ ہال تک پہنچے۔ یہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کے خلاف منعقدہ 30واں قومی احتجاج تھا، جس میں ملک بھر سے لوگ کوچز کے ذریعے لندن پہنچے۔
مظاہرے کے دوران شرکاء اسرائیل مخالف اور فلسطین کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے۔ اس موقع پر اراکینِ پارلیمنٹ اور جنگ مخالف تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا افسوس ناک ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ غزہ میں روزانہ بمباری کے ساتھ ساتھ لوگ بھوک سے بھی جان کی بازی ہار رہے ہیں، لہٰذا اسرائیل کو فوری طور پر خوراک اور اشیائے ضرورت داخل ہونے دینا چاہیے۔
مقررین اور مظاہرین نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ہر طرح کے ہتھیاروں کی فروخت بند کرے اور اس حوالے سے تمام معاہدے منسوخ کرے۔ اُنہوں نے فلسطین ایکشن کے حامیوں کی گرفتاریوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پُرامن احتجاج کو دہشت گردی قرار دینا ناانصافی ہے۔
پولیس نے مظاہرے سے قبل ہی خبردار کیا تھا کہ فلسطین ایکشن کی حمایت میں پوسٹر لے کر آنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی، کیونکہ حکومت اس تنظیم پر پابندی عائد کر چکی ہے اور اس کی حمایت یا رکنیت جرم قرار دی گئی ہے۔
اس کے باوجود پارلیمنٹ اسکوائر پر درجنوں افراد فلسطینی نسل کشی کے خلاف اور فلسطین ایکشن کے حق میں پوسٹر لے کر جمع ہوئے، جن میں سے متعدد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔مظاہرین نے واضح کیا کہ برطانوی حکومت اسرائیلی مظالم پر مؤثر اقدام کرے اور فلسطینی عوام کے لیے انصاف کی حمایت کرے۔

