مانچسٹر(ایجنسیاں)برطانیہ میں سیکیورٹی اداروں نے مانچسٹر کی یہودی برادری پر ایک بڑے اور جان لیوا دہشت گرد حملے کی سازش ناکام بنا دی ہے۔ پریسٹن کراؤن کورٹ نے داعش سے متاثر 2 شدت پسندوں، 38 سالہ ولید سعداوی اور 52 سالہ عمار حسین کو اس منصوبے کا مجرم قرار دیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق دونوں ملزمان نے خودکش نوعیت کے حملے کے لیے اے کے47 رائفلیں، پستول اور 1200 گولیاں خریدنے کا بندوبست کیا تھا اور یہودی علاقوں، اسکولوں اور عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ خفیہ پولیس افسر کی نگرانی میں سعداوی نے کہا تھا کہ وہ عمر یا جنس کی کوئی تفریق نہیں کرے گا اور زیادہ سے زیادہ جانی نقصان اس کا مقصد تھا۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل راب پوٹس نے کہا کہ یہ منصوبہ برطانیہ کی تاریخ کے مہلک ترین دہشت گرد حملوں میں سے ایک ثابت ہو سکتا تھا اور اس کے نتائج ’انتہائی تباہ کن‘ ہوتے۔ پولیس نے ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ کرائے کی گاڑی سے اسلحے کی پہلی کھیپ وصول کر رہے تھے، جو پہلے ہی ناکارہ بنا دی گئی تھی۔
تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ مرکزی ملزم ولید سعداوی 2015ء کے پیرس دہشت گرد حملوں کے منصوبہ ساز عبد الحمید اباعود سے متاثر تھا اور اسی طرز کے حملے کو دہرانا چاہتا تھا۔ ایم آئی فائیو کے مطابق سعداوی کے ماضی میں داعش سے وابستہ افراد سے روابط بھی رہے ہیں۔
عدالت نے ملزمان کو دہشت گردی سے متعلق سنگین جرائم میں قصوروار قرار دیا ہے اور سخت سزاؤں کا عندیہ دیا ہے۔ اس فیصلے کو برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

