کراچی (نامہ نگار) انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 5 کراچی نے معروف سماجی کارکن اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔فیصلہ اسپیشل کیس نمبر 100/2025 میں سنایا گیا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف ایف آئی آر نمبر 654/2025 تھانہ قائدآباد میں درج کی گئی تھی، جس میں مختلف سنگین دفعات بشمول 148، 149، 124-A، 153-A، 500، 505 تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 شامل تھیں۔ استغاثہ نے الزام لگایا تھا کہ ملزمہ نے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کو ہوا دی اور عوامی بے چینی پیدا کرنے کیلئے مواد پھیلایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ مدعی مقدمہ نے کوئی آزاد گواہ پیش نہیں کیا اور نہ ہی تفتیشی افسر نے وقوعہ کے مقام سے کوئی نجی گواہ شامل کیا۔ مزید یہ کہ ایف آئی آر 11 اکتوبر 2024 کو درج ہوئی لیکن چالان 16 اگست 2025 کو پیش کیا گیا، جس میں 10 ماہ کی تاخیر ہوئی اور اس تاخیر کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار پہلے ہی کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ریمانڈ پر پولیس حراست میں تھی، اس کے باوجود اسے اس کیس میں مفرور ظاہر کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے اپنی ضمانت کیلئے مزید تفتیش کا جواز پیش کر دیا ہے۔ لہٰذا عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو 1 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ مشاہدات عبوری نوعیت کے ہیں اور مقدمے کی حتمی سماعت پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ طلبہ کے حقوق، جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور بلوچ خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا برادری اور طلبہ تنظیموں نے ملک بھر میں احتجاج کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ حکم 13 ستمبر 2025 کو کھلی عدالت میں سنایا گیا۔

