مایوسی گناہ ہے، دیانت اور محنت حالات سنوار دے گی

لکھنا تو کرکٹ کے حوالے سے تھا لیکن دعا کے ساتھ کچھ تنقید ہوتی، اس لئے آج ٹلا دنیا ہی بہتر ہے۔یوں آج ٹورنامنٹ میں ہماری ٹیم (معاف کیجئے گا، شاہین کا لفظ التواء کا شکار ہے کہ خود ہمارے کپتان صاحب پسند نہیں کرتے) ایشیائی ورلڈ کپ میں اپنے مقابلے کا آغاز کررہی ہے اور میچ اومان کی ٹیم کے ساتھ ہے۔ نظربظاہر نئی ٹیم سے جیت ہی جائیں گے، مگر اس میچ سے اندازہ ہو جائے گا کہ دعوے کتنے سچ ہیں۔ یوں بھی ہمارے ملک میں ایک بے جواز بحث چل رہی ہے جس کا نہ ہونا ہی بہترہے لیکن کیاکریں اس کا آغاز بھی مخصوص کھلاڑیوں نے پڑھے پڑھائے سبق کو طوطے کی طرح رٹ کر بول دیا۔ بہرحال سب کچھ کے باوجود ہماری دعائیں ٹیم کے ساتھ ہیں اور یہ بھی خواہش ہے کہ ہماری یہ ٹیم اتوار کو اپنے مستقل حریف بھارت کی ٹیم کے ساتھ میچ کھیلے گی۔ گو وہ آخری تو نہیں ہوگا، اس کے باوجود ہم پاکستانی شائقین ہر بار معرکہ بنیان مرصوص کی تمنا ہی رکھتے ہیں، اس لئے آج اس پر بات کرنے سے گریز کرتے اور اس وقت ملک اور عوام کو درپیش بڑے مسئلہ پر ہی بات کرلیتے ہیں۔

تاریخ کا بدترین سیلاب خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزادکشمیر اور مرکزی و شمالی پنجاب کو نقصان پہنچاتے ہوئے آگے بڑھ گیا ہے اور اب جنوبی پنجاب اس کے زیر اثر ہے، دو نہیں، بلکہ تین دریاؤں کے مشترکہ سیلاب نے جنوبی پنجاب میں بہت زیادہ نقصان کیا ہے۔بیسیوں کیا بلکہ سینکڑوں دیہات اور ان کے باسی سیلاب کی زد میں ہیں، فصلیں تو بہہ چکیں، انسانی المیے بھی ظاہر ہو رہے ہیں اور انسانی فطرت کے مظاہر بھی سامنے آئے ہیں۔اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پریشانی کے دور میں کشتی والوں نے لوگوں سے نوٹ اٹیرنا شروع کر دیئے تھے۔ مجبوراً حکومت پنجاب کو فوری فیصلہ کرنا پڑا اور حکم دیا گیا کہ یہ کشتی بان (ملاح) کسی متاثرہ فرد سے پیسے مانگیں نہ لیں اور متعلقہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ان کو ہر پھیرے کے بدلے معاوضہ دیں تاکہ انخلاء کا عمل رکنے نہ پائے۔ اسی حوالے سے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے خود نگرانی کی اور وہاں کیمپ لگا کر انخلاء کا کام کرایا، یوں حالات کو سنبھال لیا گیا، اس کے بعد آج (جمعہ) وزیراعلیٰ مریم نواز نے خود بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کیا، جبکہ وہ پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ متاثرین کی بحالی کے لئے معاوضہ دیا جائے گا حتیٰ کہ انہوں نے مکان بنا کر دینے کا وعدہ بھی کیا۔

یہ سب لمحہ بہ لمحہ کی خبروں سے دیکھا جا رہا ہے اور بعض کمزوریوں کی بھی نشاندہی ہو رہی ہے جبکہ سیلاب کا رخ اب سندھ کی طرف ہے اور سیلابی ریلے مجموعی طور پر ادھر ہی بڑھ رہے ہیں۔ شمالی اور وسطی پنجاب سے پانی آگے بڑھ چکا اور اب دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشیں رک بھی گئی ہیں۔ اس لئے بھارتی آبی جارحیت بھی ختم ہوگئی۔ اگرچہ اسے آبی جارحیت کہنا سو فیصد درست نہیں کہ بھارت کے ڈیم بھر کر مشرقی پنجاب اور ہماچل پردیش کو بُری طرح نقصان پہنچا رہے تھے۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے اپنے شہروں کے تحفظ کے لئے سپل ویز کھولے اور پانی سوکھے دریاؤں، ستلج اور راوی میں آکر طوفان مچانے لگا۔ آبی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں اس امر پر غور کرنا چاہیے تھا کہ بھارت بار بار کیوں ایسا کررہا ہے، بات سمجھ یوں آتی ہے کہ بھارتی زعما اپنے ڈیم اور شہر بچانے کے ساتھ اس حکمت عملی پر عمل کررہے تھے کہ ان کے ڈیم خالی نہ ہوں، چنانچہ ڈیم بھرنے کے بعد اوورفلو کی صورت اختیار کرتے تو سپل ویز کھول کر پھر سے سیلاب کو ہماری طرف روانہ کر دیا جائے او ریہ عمل بار بار دہرایا گیا اور ہمارے حصے کو زیادہ نقصان پہنچا، بہرحال اب جنوبی پنجاب والے سامنا کررہے ہیں تو سندھ والے تیار اور ہوشیار ہونے کا اعلان کررہے ہیں۔ سندھ کی صوبائی حکومت اور متعلقہ اضلاعی انتظامیہ بھی الرٹ ہیں ایک دو روز میں معلوم ہو سکے گا کہ سیلاب نے پھیل کر پانی کی رفتار اور معیار کو کتنا کم کیا اور اب سندھ کو کس درجہ کے سیلاب کا سامنا ہے۔

یہ تو وہ حالات ہیں جو سب کے سامنے ہیں، ہم نے صرف یاددہانی کرائی ہے، تاہم اس پہلوپر غور لازم ہے کہ چاول، گنے اور کپاس جیسی فصلوں کو جو نقصان پہنچا اور اس سیلاب نے اربوں پودے لگانے والی شجرکاری کو رکوا دیا، اب اس کا کیا ہوگا کہ یہ امر طے ہے۔ بالائی اور وسطی و جنوبی علاقوں سے درختوں کی کٹائی اور پتھروں کو بھی تعمیرات کے لئے استعمال کرنے سے شدت پیدا ہوئی اور اب اس کا سختی سے سدباب کرنا ہوگا جبکہ دریا چاہے سوکھ جائیں، ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، ان سطور میں ایک سے زیادہ بار نشاندہی کی گئی کہ راوی کے خشک نالہ بن جانے کے بعد اس کے پیٹ میں آبادیاں ہی نہیں ہیں بلکہ صنعتیں بھی لگائی گئیں، ابھی تک صرف ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا ذکر آ رہا ہے کسی نے پرانے بند(اب رنگ روڈ) کے اندر والے علاقے کا سروے کرکے جائزہ نہیں لیا کہ پرانے شہر جیسے کتنے محلے بھی آباد ہو چکے ہوئے ہیں۔

روڈا تو واضح طور پر نظر آ رہا، اس کے حوالے سے تنقید بھی ہوئی اور جواب بھی دیا جا رہا ہے۔ میری ذاتی رائے کے مطابق اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے کہ حالیہ سیلابی کیفیت کبھی بھی پیش آ سکتی ہے، بلکہ بھارت تو ہر سال فاضل پانی ستلج اور راوی میں چھوڑتا ہے چاہے کم ہو یا زیادہ اور اگر پھر بارشوں کی ایسی شدت پیدا ہوئی تو یہی کیفیت پیدا ہوگی۔ اس کا حل کوئی پختہ بند باندھنا نہیں بلکہ پورے نقشے پر نظرثانی ہے۔ حالانکہ ڈھائی تین کروڑ آبادی کے پھیلتے شہر لاہور کے کنارے پر لاکھوں کی آبادی کے لئے نیا شہر بسانا عقل سے ماوراء ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے یوں تو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آنے والی حکومت، گذری حکومت کے منصوبوں پر عمل درآمد روک دیتی ہے لیکن روڈا منصوبہ خوش قسمت ہے کہ اس کے ساتھ ایسا نہیں ہو رہا۔

عرض مکرر یہ ہے کہ اب نقصان کا درست اور دیانتدارانہ اندازہ جدید سائنسی طریقے اور فکر سے لگا کر انسداد کرنا ہوگا اور مستقبل کے لئے حفاظتی اور ترقیاتی کام کرنا ہوں گے۔ چاول، گنے اور کپاس کا جتنا نقصان ہوا اس کا جائزہ لے کر درست تخمینوں کے مطابق قلت پر قابو پانے کی ضرورت ہوگی، جہاں تک گندم کا تعلق ہے تو یہ درست کہ سیلاب نے بہت نقصان کیا لیکن کھیتوں سے پانی اتر جانے کے بعد متاثرہ اراضی و تر بھی ہو چکی ہوگی اور گندم کی بوائی بہتر اور مفید ہوگی، جبکہ وسطی پنجاب سے شمالی پنجاب کی حدود تک چول کی جو فصل محفوظ رہ گئی وہ بھی بہتر نتائج دے گی۔ضرورت محنت، دیانت اور چور، مردہ خور اہل کاروں سے عوام کو بچانے کی ہے۔ یقینا موجودہ حکومت بہتر فیصلے کرے گی اور یہی توقع ہے، کیا یہ ممکن نہیں کہ اورچند روز بعد پانی اتر جائے تو شجرکاری پھر سے شروع ہو کہ زمین تر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں