سیوتا، اسپین(نامہ نگار)ہسپانوی علاقے سیوتا میں کم از کم 54 مراکشی بچوں اور 30 بالغ افراد کو سمندر کے خطرناک سفر کے بعد بچا لیا گیا، یہ افراد تیراکی کرتے ہوئے اسپین میں داخل ہوئے تھے۔ مقامی حکومت نے امداد کی اپیل کی ہے۔
ہسپانوی سول گارڈ کے مطابق، مراکش سے تعلق رکھنے والے کم از کم 54 بچے اور تقریباً 30 بالغ افراد نے شدید دھند اور اونچی لہروں کے باوجود تیراکی کرتے ہوئے اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔بچاؤ کی کارروائیوں میں کئی افراد کو ریسکیو کر لیا گیاجبکہ کچھ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سیوتا کے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
تمام بچوں کو فی الحال عارضی رہائشی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ سیوتا کی مقامی حکومت نے ہسپانوی مرکزی حکومت سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ: “یہ ایک قومی مسئلہ ہے، ہمیں تنہا نہ چھوڑا جائے۔”ماضی میں بھی اس قسم کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 2021 میں ایک لڑکے کو پلاسٹک کی بوتلوں کے سہارے تیراکی کرتے ہوئے سیوتا پہنچنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا تھا۔
سیوتا اور میلیا، اسپین کے وہ علاقے ہیں جو مراکش کے قریب واقع ہیں اور یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ زمینی سرحدیں تصور کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقے غیر قانونی مہاجرین کیلئےایک اہم گزرگاہ بن چکے ہیں۔قانونی تقاضوں کے مطابق، بالغ مراکشی مہاجرین کو واپس مراکش بھیج دیا جاتا ہے، جب کہ نابالغ بچوں اور غیر مراکشی افراد کو وقتی پناہ دی جاتی ہے۔یہ واقعہ ایک بار پھر یورپ میں مہاجرت کے سنگین بحران اور شمالی افریقہ کے راستے غیر قانونی نقل مکانی کی سنگینی کی یاد دہانی کراتا ہے۔

