مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز واقعات، برطانوی میڈیا کی جانبداری میں اضافہ

لندن (نمائندہ خصوصی) مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کے ساتھ ساتھ برطانوی میڈیا میں بھی جانبداری بڑھ گئی ہے۔ یہ بات اسلام اور مسلمانوں سے متعلق مواد پر نظر رکھنے والے ادارے سینٹر فار میڈیا مانیٹرنگ نے اپنی رپورٹ “اسٹیٹ آف برٹش میڈیا 2025” کے پارلیمنٹری لانچ کے موقع پر بتائی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی میڈیا کا مسلمانوں کے حوالے سے مجموعی رویہ جانبدارانہ ہے اور گزشتہ برس شائع شدہ 70 فیصد مواد میں مسلمانوں کو جرائم، دہشت گردی اور تنازعات سے جوڑا گیا۔

تقریب کے میزبان رکن پارلیمنٹ شوکت ایڈم نے کہا کہ رپورٹ بروقت شائع کی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کے ساتھ میڈیا کے رویے کو اجاگر کیا جا سکے۔ سینٹر کی ڈائریکٹر رضوانہ حمید نے بتایا کہ گزشتہ برس 30 بڑے خبر رساں اداروں میں شائع 40,913 آرٹیکلز کا جائزہ لیا گیا، جس میں تقریباً نصف مضامین میں شدید درجے کا تعصب پایا گیا۔

رضوانہ حمید کے مطابق رپورٹ میں اسپیکٹیٹر میگزین اور جی بی نیوز کو تعصب کے پانچ حوالوں سے بدترین قرار دیا گیا: منفی کوریج، عمومی الزامات، غلط نمائندگی، سیاق و سباق کو حذف کرنا اور مسائل پیدا کرنے والی سرخیاں لگانا۔

مسلمانوں سے متعلق منفی رپورٹنگ میں دی ٹیلی گراف، جیوش کرانیکل، ڈیلی ایکسپریس، دی سن، ڈیلی میل اور دی ٹائمز شامل ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کے بارے میں نسبتاً کم جانبدارانہ رپورٹنگ کرنے والے ادارے آئی ٹی وی، میٹرو، بی بی سی، پی اے نیوز، دی گارڈین، اے پی، اسکائی نیوز اور ایوننگ اسٹینڈرڈ ہیں۔

معروف مصنف فیصل حنیف نے کہا کہ بعض ادارے اپنی تنقید کو جواز بنا کر کہتے تھے کہ انہیں اپنے خیالات کے اظہار سے روکا جا رہا ہے، لیکن اب یہ رپورٹ واضح ثبوت فراہم کرتی ہے کہ کس حد تک غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

ایم سی بی کے مقداد ورسی نے کہا کہ طویل عرصے سے مسلمانوں کی درست تصویر نہ دکھانے کی شکایت کی جاتی رہی، اور اب ڈیٹا کی صورت میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ کب، کہاں اور کیسے مسلمانوں کی کردار کشی کی گئی۔

گزٹ پریس کے ایڈیٹر ڈومینک پونسفورڈ نے کہا کہ کمپئین گروپ کا میڈیا کے ساتھ رابطہ اور حقائق پیش کرنا خوش آئند ہے، کیونکہ مسلمان برطانیہ کی بڑی اقلیت ہیں اور میڈیا کو ان کے تحفظات کا احترام کرنا ہوگا۔