مسی ساگا(نمائندہ خصوصی) مسی ساگا کی میئر، کیرولین پیرِش نے جمعہ کو تصدیق کی کہ مسی ساگا برمپٹن اور صوبائی حکومت کی طرح مکمل دفتر واپسی کی پالیسی پر عمل نہیں کرے گا۔”مسی ساگا اپنے موجودہ ہائبرڈ ورک ماڈل کو جاری رکھے گا، جس میں ملازمین ہفتے میں تین دن دفتر میں کام کریں گے اور دو دن گھر سے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ہمارے 8378ملازمین میں سے 80٪ خود اختیاری طور پر پانچ دن دفتر آتے ہیں جبکہ باقی 20٪ ہائبرڈ ماڈل پر کام کرتے ہیں۔”
میئر پیرِش نے واضح کیا کہ یہ شہر ہائبرڈ ورک ماڈل (3 دن دفتر + 2 دن ریموٹ) پر قائم رہے گا۔اعداد و شمارکے مطابق شہر میں کل 8378ملازمین ہیں جن میں سے 80٪ خود دفتر میں پانچ دن آنا پسند کرتے ہیں، جبکہ باقی 20٪ ہائبرڈ موڈ کے تحت کام کر رہے ہیں۔
صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق اونٹاریو حکومت نے 20 اکتوبر سے چار دن دفتر اور 5 جنوری 2026 سے پانچ دن دفتر میں کام لازمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن نے اس فیصلے پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے اور اپنے شہر میں مکمل دفتر واپسی کی پابندی نافذ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی حمایت اور مخالفت دونوں منظر عام پر آئی — کچھ ملازمین نے اسے “عظیم اقدام” کہا، جبکہ بعض نے عدالتوں میں مکمل دفتر واپسی کی ضرورت پر سوال اٹھائے۔
اونٹاریوکے پریمئرڈگ فورڈ کا اس حوالے سے موقف ہے کہ دیگر اونٹاریو میونسپلٹیاں بھی اپنے ملازمین کو پانچ دن دفتر لانے کی پالیسی اختیار کریں۔
مسی ساگا شہر نے اپنے ہائبرڈ ورک ماڈل کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے (3 دن دفتر + 2 دن گھر سے کام)، جبکہ برمپٹن اور صوبائی حکومت مکمل دفتر واپسی کی پالیسی پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔یہ اختلاف پالیسی اور ملازمین کی پسند کے درمیان واضح تضاد کی نشاندہی کرتا ہے اور مستقبل میں ورک ماڈل پر ممکنہ تنازعات کی طرف اشارہ بھی ہے۔

