برلن (نمائندہ خصوصی)جرمنی کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز اسرائیل کیلئے ایک سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایرانی جوابی کارروائیوں کے تناظر میں اسرائیل میں کسی بھی وقت ڈرون یا راکٹ حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ وزارت نے اپنی آن لائن ٹریول ایڈوائزری کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے جرمن شہریوں کو فوری احتیاط اور غیر ضروری سفر سے اجتناب برتنے کی تلقین کی ہے۔
جرمن وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ”مشرق وسطیٰ کے حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ تمام فریقین کو اب فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں مزید کشیدگی اور سلامتی کو خطرے میں ڈالیں۔”
جمعہ کی صبح اسرائیل نے ایران کے مختلف فوجی اور جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں متعدد اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنسدان شہید ہوئے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے بیان میں ان حملوں کو تہران کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو “ختم کرنے” کی کوشش قرار دیا۔
ایران نے ان حملوں کے ردعمل میں سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے “سخت سزا” دینے کا اعلان کیا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست بھی کر دی ہے۔ ایرانی کارروائی کا آغاز “وعده صادق 3″ کے تحت ہو چکا ہے جس میں بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں۔ جرمن وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ”مزید ڈرون اور راکٹ حملوں کی کسی بھی وقت توقع کی جا سکتی ہے۔”
ماہرینِ امورِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کی قیادت کو یہ صورتحال ایک ممکنہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے، جس کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے تمام ذمے دار فریقین سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر سفارتی ذرائع اختیار کریں اور کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

