قاہرہ(نیٹ نیوز)مصری حکام نے فلسطین کے محصور علاقے غزہ کی جانب مجوزہ عالمی مارچ سے قبل قاہرہ میں 200 سے زائد فلسطینی حامی کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ ’گلوبل مارچ ٹو غزہ‘ نامی اس پُرامن اقدام کا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف آواز بلند کرنا اور انسانی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، مارچ کے منتظمین نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار شدگان میں امریکا، آسٹریلیا، فرانس، نیدرلینڈز، اسپین، مراکش، الجزائر، جرمنی، یونان سمیت درجنوں ممالک کے شہری شامل ہیں۔ ان کارکنان کو یا تو قاہرہ ہوائی اڈے پر روکا گیا، یا مختلف ہوٹلوں میں سادہ لباس اہلکاروں نے چھاپے مار کر ان سے تفتیش کی، موبائل فون اور ذاتی سامان ضبط کیا اور بعض کو ملک بدر بھی کر دیا گیا۔
مارچ کے ترجمان سیف ابوکیشک نے بتایا”قاہرہ ایئرپورٹ پر کچھ کارکنوں کو 18 سے 20 گھنٹے تک بغیر کسی وضاحت کے روکے رکھا گیا کچھ کو تفتیش کے بعد رہا کیا گیا جبکہ متعدد کو حراست میں لے لیا گیا۔”
اے ایف پی کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیوز میں متعدد غیرملکی کارکن ہوائی اڈے کے ہولڈنگ روم میں اپنے سامان کے ساتھ بند دکھائی دیے، جہاں سہولیات کا فقدان بھی واضح تھا۔ ایک جرمن شہری نے بتایا کہ ان کی سفارت خانے سے رابطہ ہوا ہے اور سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
یونانی دستے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ تمام شرکاء مکمل سفری دستاویزات کے ساتھ قانونی طور پر مصر میں داخل ہوئے تھے اور ان پر کسی قسم کی قانون شکنی کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔
‘گلوبل مارچ ٹو غزہ’ کے تحت دنیا بھر سے تقریباً 4000 کارکنان نے 14 جون کو رفح بارڈر کی طرف مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جہاں وہ انسانی امداد کی رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کیمپ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مارچ العریش شہر سے غزہ کی سرحد تک 50 کلومیٹر کے فاصلے پر پاپیادہ کیا جانا تھا۔
اسی دوران، ایک اور قافلہ جسے عربی میں ’صمود‘ (ثابت قدمی) کا نام دیا گیا ہے، تیونس سے روانہ ہوا ہے، جو لیبیا اور مصر سے ہوتے ہوئے غزہ پہنچنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ منتظمین کے مطابق اس قافلے کو تاحال مصر میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسرائیل نے مصر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مظاہروں کو سرحد کے قریب نہ آنے دیا جائے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ نے ان اقدامات کو اسرائیلی فوجیوں کی سلامتی کیلئےخطرہ قرار دیا ہے۔مصر کی وزارت خارجہ نے جواب میں کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی وفد کو سرحدی علاقوں میں جانے کیلئےباقاعدہ سرکاری منظوری درکار ہو گی، اگرچہ مصر اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
پُرامن جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان ترجمان سیف ابوکیشک نے دوٹوک انداز میں کہا”ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مصر میں موجود اور مزید آنے والے شرکاء کی تعداد اس مارچ کو کامیابی سے منعقد کرنے کیلئے کافی ہے۔”اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، غزہ اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ قحط زدہ خطہ ہے، جہاں خوراک، پانی، طبی امداد اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید کمی ہے۔

