قاہرہ (الجزیرہ) دو دہائیوں کی طویل تعمیراتی محنت اور تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر لاگت کے بعد، گرینڈ ایجپشیئن میوزیم (GEM) نے منگل کے روز عام عوام کیلئے اپنے دروازے کھول دیے۔ یہ افتتاح ہفتہ کے روز ہونے والی سرکاری افتتاحی تقریب کے بعد عمل میں آیا۔
یہ میوزیم ایک ہی تہذیب کے لیے دنیا کا سب سے بڑا آثارِ قدیمہ کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اہرامِ مصر کے مقام جیزہ سے دو کلومیٹر اور قاہرہ کے وسطی حصے سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
“اہم خصوصیات”
تقریباً 5 لاکھ مربع میٹر (53 لاکھ مربع فٹ) پر پھیلا یہ عظیم الشان کمپلیکس قدیم مصر کی 30 سلطنتوں سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد نوادرات کا گھر ہے۔
میوزیم کی نمایاں اشیاء میں بادشاہ رامسیز دوم کا 3200سال پرانا 11.36 میٹر بلند مجسمہ،تو تنخ آمون کے مقبرے سے برآمد شدہ 5000سے زائد خزانےاور خوفو بادشاہ کی 4500سال قدیم مکمل کشتی، جو دنیا کی قدیم ترین سالم کشتیوں میں سے ایک ہے، شامل ہیں۔
“میوزیم کی تعمیراتی شان”
میوزیم کو اکثر ’’چوتھا اہرام‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کا تکون نما ڈیزائن اہرامِ جیزہ کی جیومیٹری کی عکاسی کرتا ہے۔شمالی و جنوبی دیواریں اہرامِ خوفو اور اہرامِ منکورا کے ساتھ سیدھ میں ہیں۔اس کی تعمیر آئرش آرکیٹیکچر فرم “ہینیگن پینگ” نے کی ہے۔عمارت میں ریت رنگی کنکریٹ، نیم شفاف الاباسٹر پتھر اور فراسٹڈ شیشے کے پینلز استعمال کیے گئے ہیں۔
“تعمیراتی تاریخ”
میوزیم کا منصوبہ 1992 میں اعلان کیا گیا، مگر تعمیر کا آغاز 2005 میں ہوا۔2011 کی عرب بہار اور کووِڈ-19 وبا کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار رہا۔کچھ حصے 2024 میں جزوی طور پر کھولے گئے تھے۔
مرکزی عمارت،کانفرنس سینٹر،نائل ویلی پارک،خوفو بوٹ میوزیم اور جدید تحقیقی و حفاظتی مرکزشامل ہیں.
“میوزیم کے اندر کا منظر”
داخلی دروازے پر داخل ہوتے ہی زائرین کو رامسیز دوم کا 83 ٹن وزنی عظیم مجسمہ خوش آمدید کہتا ہے، جو پہلے قاہرہ کے رامسیز اسکوائر میں 1954 سے 2006 تک نصب رہا۔یہ مجسمہ 128 پہیوں والی خصوصی گاڑی پر عمودی حالت میں ایک ہی ٹکڑے میں 30 کلومیٹر کے فاصلے تک منتقل کیا گیا تھا۔
میوزیم کے اندر ایک چھ منزلہ شاندار زینہ ہے جس کے دونوں جانب تقریباً 60 نوادرات رکھے گئے ہیں جن میں دیوی دیوتاؤں کے مجسمے، تابوت، ستون اور قدیم تحریری تختیاں شامل ہیں۔
“تو تنخ آمون گیلری”
میوزیم کا سب سے نمایاں حصہ تو تنخ آمون گیلری ہے، جو 7,500 مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں مشہور نوجوان فرعون کے مقبرے سے برآمد ہونے والے 5,000 سے زائد نوادرات رکھے گئے ہیں۔
زائرین یہاں سونے کا ماسک، تخت، تابوت، رتھ اور زیورات دیکھ سکتے ہیں، جنہیں قدیم شاہی مقبرے کے ماحول کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔
“دنیا کے بڑے میوزیمز میں شامل”
گرینڈ ایجپشیئن میوزیم میں 45000مربع میٹر رقبے پر مستقل نمائش کی جگہ موجود ہے جو اسے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا میوزیم بناتی ہے۔
لوور میوزیم (پیرس) – 72735مربع میٹر،اسٹیٹ ہرمٹیج میوزیم (روس) – 66842مربع میٹر،نیشنل میوزیم آف چائنا (بیجنگ) – 65000مربع میٹر،میٹروپولیٹن میوزیم (نیویارک) – 58820مربع میٹر،موزیو دل پرادو (میڈرڈ) – 47700مربع میٹر
“سیاحت اور معیشت”
مصر کے لیے سیاحت بیرونی زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔سن 2024 میں 1 کروڑ 57 لاکھ سیاحوں نے مصر کا رخ کیا، اور سیاحت کے شعبے نے ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 8 فیصد حصہ ڈالا۔

