معدنی نمونوں کی کھیپ امریکا کو ارسال، پی ٹی آئی کا تفصیل پبلک کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد(نامہ نگار+ایجنسیاں)پاکستان نے امریکا کو نایاب ارضی معدنیات کی پہلی کھیپ بھیج دی ہے، جبکہ حزبِ اختلاف کی جماعت پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

ڈان اخبار کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان نایاب ارضی معدنیات کی برآمد سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کے قریب پہنچا ہے۔ امریکی کمپنی یو ایس ایس ایم نے ستمبر میں پاکستان کے ساتھ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری پر معاہدے پر دستخط کیے تھے، اور اب معدنی نمونوں کی پہلی کھیپ امریکا بھیجی گئی ہے۔

نمونوں میں اینٹیمنی، تانبے کے کانسینٹریٹ، اور نایاب ارضی عناصر جیسے نیوڈی میئم اور پریسیوڈی میئم شامل ہیں۔ یو ایس ایس ایم کے سی ای او اسٹیزی ڈبلیو ہیسٹی نے اس ترسیل کو پاکستان–امریکا اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک سنگِ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور دوستی کو فروغ دے گا۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے حکومت پر زور دیا کہ وہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مبینہ خفیہ معاہدوں کی تفصیلات قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یکطرفہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات ملک کی پہلے سے نازک صورتحال کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے۔

فوجی ذرائع نے ’فنانشل ٹائمز‘ میں شائع دعووں کی تردید کی ہے اور کہا کہ پسنی بندرگاہ سے متعلق تجاویز سرکاری پالیسی نہیں تھیں۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی ایسے کسی بھی معاہدے کو قبول نہیں کرے گی جو عوام اور ریاستی مفادات کے نقصان پر مبنی ہو۔

پاکستان کے معدنی ذخائر کا تخمینہ تقریباً 60 کھرب ڈالر لگایا جاتا ہے، جس سے یہ عالمی سطح پر معدنیات کے شعبے میں اہم مقام حاصل کر سکتا ہے، جبکہ امریکا کیلئے یہ شراکت داری اہم خام مال تک رسائی اور عالمی منڈی پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

نایاب معدنیات کی ترسیل پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرے گی، تاہم حزبِ اختلاف کی طرف سے شفافیت کا مطالبہ اور مبینہ خفیہ معاہدوں پر تحفظات سیاسی بحث کو بھی بڑھا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں