“تصویریں”اور “مکالماتِ عرفان”کو فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی شعبہ اردو کے نصاب میں شامل کرلی گئی ہیں
کراچی(خصوصی رپورٹ)معروف شاعر ، نثر نگار اور آرٹسٹ جناب عرفان مرتضی کی نثری کتب”مکالماتِ عرفان”اور تصوراتی مکالمات کے مجموعے”تصویریں”کو شعبہ اردو زبان ادب و جامعہ فاطمہ جناح برائے خواتین راولپنڈی کے ایم فل نظام میں”پاکستانی غیر افسانوی اردو نثر”میں “مہجری ادب”کی ذیل میں شامل کرنے کی منظوری نویں بی او ایس کے اجلاس میں دی گئی ہے_
یہ فیصلہ عرفان مرتضی کے ادبی خدمات اردو نثر میں نمایاں فکری اسلوبی رہنمائی پر کردار کے اعتراف کے طور پر کیا گیا ہے_ تصوراتی مکالمات کا یہ انوکھا سلسلہ عرفان مُرتضیٰ کا خاصہ ہے۔ اِن تصوراتی مکالمات میں عرفان مرتضیٰ مختلف شاعروں سے اُن کی کتابوں کے ذریعے گفتگو کرتے ہیں اور شاعر کی شاعری سے اُس کی شخصیت کشید کرتے ہیں۔ جن شعرا سے عرفان نے تصوراتی ملاقاتیں کی ہیں اُن میں نمایاں ناموں میں میر تقی میرؔ، غالبؔ، آتشؔ، امیرؔ مینائی، جوشؔ، فیضؔ، اصغر گونڈوی ، فرازؔ، پروین شاکر، کلیم عاجزؔ، دلاور فگار، خمارؔ بارہ بنکوی اور عصِر حاضر کے کئی شعرا شامل ہیں۔
اس موقع پر جناب عرفان مرتضی نے کہا کہ یہ میرے لئیے خوشی اور فخر کا لمحہ ہے کہ میری تصانیف کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے،میں اس اعزاز پر فاطمہ جناح یونیورسٹی یونیورسٹی کے معزز اساتذہ،انتظامیہ اور نصاب کمیٹی کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میری ادبی خدمات کو قابل مطالعہ اور قابل قدر سمجھا امید ہے میری یہ کتابیں ایم فل کی سطح پر تحقیق کرنے والی طالبات کیلئے نہ صرف سوچ کے نئے زاوئے پیدا کریں گی بلکہ تنقیدی شعور بیدار کرکے ماضی و حال کے شعری و فکری سفر اور شاعروں کو بہتر طور پر سمجھنے میں آگاہی ملے گی۔
اللّٰہ کرے علم کا یہ سفر جاری رہے اردو ادب نئی نسل کے ذہنوں میں مظبوط بنیادوں کے ساتھ پروان چڑھتا رہے.اس موقع پر ادبی سماجی ثقافتی تنظیموں کی جانب سے عرفان مرتضی کو مبارک باد کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اس امید کے ساتھ کہ ہمیشہ کی طرح عرفان مرتضی اردو ادب کی خدمت اور بہتر فروغ میں اسی جذبہ کے ساتھ مصروف عمل رہیں گے

