مغرب سے آنے والا پیسہ مخصوص موضوعات پر مبنی کہانیوں کیلئےاستعمال ہو رہا ہے
لاہور(شوبز رپورٹر)سینئر اداکار محمود اختر نے انکشاف کیا ہے کہ مغرب سے آنے والے فنڈز ایسے ڈراموں کی تیاری میں استعمال ہو رہے ہیں جو معاشرتی بگاڑ کو فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے نجی پروگرام ’گپ شپ وِد واسع چوہدری‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرانے وقتوں کے ڈرامے مضبوط کہانی، مثبت پیغام اور خاندانی اقدار کے حامل ہوتے تھے، لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے۔
محمود اختر کا کہنا تھا کہ ڈائجسٹ لکھاریوں کے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں آنے کے بعد ڈراموں کا معیار بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج پیسہ اور ریٹنگ سب کچھ بن چکے ہیں، کہانی کا مقصد اور سماجی ذمہ داری پسِ پشت ڈال دی گئی ہے۔
اداکار نے انکشاف کیا کہ “مغرب سے بہت پیسہ آ رہا ہے جو معاشرے کو بگاڑنے کیلئےاستعمال ہو رہا ہے،”یہ فنڈز مخصوص موضوعات کو فروغ دینے کیلئے دیے جاتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ کسی کو اس کی پروا نہیں۔
ان کے مطابق اب ایسے ڈرامے بنائے جا رہے ہیں جو اخلاقی زوال اور خاندانی بگاڑ کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو چند سالوں میں معاشرہ خطرناک سمت میں جا سکتا ہے۔
محمود اختر نے کہا کہ سوشل میڈیا اور جدید میڈیا پلیٹ فارمز نے اخلاقی اقدار کو متاثر کرنے والا مواد عام کر دیا ہے، تاہم “ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی سطح پر اصلاحِ معاشرہ کی کوشش کریں۔”
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے کینیڈا میں ’دستک‘ کے نام سے ایک چار روزہ اسٹیج ڈراما کیا، جو بزرگ والدین کو اولڈ ایج ہومز میں چھوڑنے جیسے موضوع پر مبنی تھا۔
ڈرامے کے اختتام پر یہ پیغام دیا گیا کہ ایک بیٹا اپنے باپ کو صرف پنشن کے پیسوں کی خاطر واپس گھر لانے آتا ہے، مگر باپ انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اب ہمارا کوئی رشتہ نہیں رہا، کیونکہ بیٹے نے ہمیشہ اپنے مفاد کے لیے اسے استعمال کیا۔اداکار نے بتایا کہ ڈرامے کا اسکرپٹ بھی انہوں نے خود لکھا، تاکہ اس کے ذریعے معاشرتی شعور بیدار کیا جا سکے۔

