ممبئی(شوبزڈیسک)بھارت کی نئی پروپیگنڈا فلم ’دھُرندھر‘ کو مبینہ طور پر خلیجی ممالک میں پاکستان مخالف مواد کے باعث پابندی کا سامنا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کو بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ریلیز ہونے سے روک دیا گیا ہے حالانکہ فلم ساز مشرقِ وسطیٰ میں نمائش کے لیے کوشاں تھے۔
فلم کی ٹیم سے وابستہ ایک ذریعے نے بھارتی ویب سائٹ کو بتایا کہ یہ خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا جا رہا تھا کیونکہ فلم کو ’پاکستان مخالف‘ تصور کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ خلیجی ممالک نے فلم کے مواد کی منظوری نہیں دی جس کے باعث ’دھُرندھر‘ کسی بھی ملک میں ریلیز نہ ہو سکی۔
اطلاعات کے مطابق ادیتیا دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم، جو ’یوری: دی سرجیکل اسٹرائیک‘ اور ’آرٹیکل 370‘ کی ہدایت کاری بھی کر چکے ہیں، 5 دسمبر کو ریلیز ہوئی۔ فلم کی کہانی ایک بھارتی جاسوس کے گرد گھومتی ہے جو کراچی کے علاقے لیاری میں تعینات ہوتا ہے۔ رنویر سنگھ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ارجن رامپال، آر مادھون، سنجے دت اور اکشے کھنہ بھی کاسٹ کا حصہ ہیں۔
پاکستانی اور بھارتی دونوں ناظرین نے فلم کے پروپیگنڈا کردار پر شدید تنقید کی ہے۔ بعض پاکستانی صارفین نے کہا کہ ہماری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اپنی اصل کہانیوں کو فلمی صورت دینے میں ناکام رہی ہے جبکہ بھارتی انڈسٹری ان ہی موضوعات کو اپنے بیانیے کے مطابق پیش کرتی ہے۔
کچھ پاکستانی ناظرین نے اس بات پر بھی افسوس کیا کہ پاکستان میں بھارتی مواد بڑے پیمانے پر دیکھا جاتا ہے، باوجود اس کے کہ بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر مسلسل پابندیاں اور بائیکاٹ جاری ہیں۔
اگرچہ خلیجی ریاستوں کی جانب سے پابندی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، تاہم یہ فیصلہ اس سلسلے کا حصہ ہے جس میں حالیہ برسوں کے دوران متعدد بھارتی فلموں کو خلیج میں ریلیز سے روک دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ہریتک روشن اور دپیکا پڈوکون کی فلم ’فائٹر‘ کو پہلے متحدہ عرب امارات میں مختصراً نمائش کی اجازت ملی تھی تاہم بعد میں یہ اجازت بھی معطل کر دی گئی۔ متنازعہ مناظر نکال کر نیا ورژن جمع کرانے کے باوجود اسے منظور نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اکشے کمار کی ’اسکائی فورس‘ اور جان ابراہم کی ’دی ڈپلومیٹ‘ کو بھی مشابہ خدشات کے باعث پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

