موٹروے ایم فائیو کا بڑا حصہ دریائے ستلج میں بہہ گیا، ہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں

جلالپور پیروالا (نمائندہ خصوصی+اے ایف پی) پنجاب میں سیلابی تباہ کاریوں نے ایک اور سنگین صورتحال اختیار کرلی، جلالپور پیروالا کے قریب ملتان-سکھر موٹروے (ایم فائیو) کی تمام چھ لینیں دریائے ستلج کے دباؤ کے باعث شگاف میں بہہ گئیں، جس کے نتیجے میں جنوبی اور وسطی پنجاب کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا۔ خطہ مسلسل آٹھویں روز بھی محصور ہے اور سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

محکمہ آبپاشی کے ترجمان نے تصدیق کی کہ یہ ایم فائیو پر دوسرا بڑا شگاف ہے جس نے شاہراہ کو مفلوج کردیا ہے۔ ان کے مطابق ہنگامی ٹیمیں بڑے پتھر ڈال کر زمین کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ مزید نقصان کو روکا جا سکے۔

ڈان کے مطابق دریائے ستلج نے گیلانی روڈ اور ایم فائیو کے درمیان 20 سے 25 کلومیٹر طویل جھیل نما خطہ بنا دیا ہے، جس نے موٹروے کو مکمل طور پر پانی میں ڈبو دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ اگر بروقت کنٹرولڈ شگاف ڈال کر پانی کو دریائے چناب کی طرف گزارا جاتا تو نقصان کم ہوسکتا تھا۔

دریائے ستلج میں درمیانے درجے کے سیلاب کے باعث ملتان، لودھراں اور بہاولپور اضلاع سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ نورجا بھٹہ کے شگاف سے پانی گیلانی روڈ اور موٹروے کے دیہات کو مسلسل ڈبو رہا ہے۔

“ٹریفک اور سپلائی چین بری طرح متاثر”
نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز پولیس نے مسافروں کو متنبہ کیا ہے کہ ایم فائیو کے مختلف مقامات پر ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑا جا رہا ہے۔ ملتان سے سکھر جانے والی گاڑیاں شاہ شمس انٹرچینج سے جی ٹی روڈ کی طرف بھیجی جا رہی ہیں اور وہ اچ شریف انٹرچینج پر دوبارہ موٹروے پر آسکتی ہیں۔ سکھر سے آنے والی ٹریفک کو بھی جی ٹی روڈ پر منتقل کر کے شیر شاہ انٹرچینج پر دوبارہ ایم فائیو پر شامل کیا جا رہا ہے۔

“لاہور ڈویژن میں 28 دیہات متاثر”
کمشنر لاہور مریم خان نے اجلاس میں بتایا کہ لاہور ڈویژن کے 28 دیہات میں سیلاب سے متاثرہ علاقے اب بھی مسائل کا شکار ہیں، 6 دیہات میں 50 فیصد سے زائد نقصان ہوا ہے۔ لاہور میں 82 ہزار 952 افراد متاثر ہوئے اور 21 ہزار 460 ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے ہدایت دی کہ پانی اترنے کے بعد انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ وبائی خطرات سے بچا جا سکے۔

“سندھ میں صورتحال تشویشناک”
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق کوٹری بیراج پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ کشمور، گھوٹکی، نوشہروفیروز اور نوابشاہ کے علاقوں میں وسیع رقبے پر فصلیں اور مکانات ڈوب گئے ہیں، مکین کشتیوں اور عارضی ذرائع سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ جامشورو اور لاڑکانہ کے کچے کے علاقوں میں بھی پانی بڑھنے سے نقل مکانی میں تیزی آگئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں