بینکاک(ٹی وی رپورٹس،نیوزایجنسیاں)میانمار میں تباہ کن زلزلے نے تباہی مچادی، زلزلے جھٹکے تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، بھارت، لاؤس اور چین میں بھی محسوس کیے گئے، میانمار اور بینکاک میں عمارتیں گرنے سے144 اموات کی تصدیق ہوگئی.

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق زلزلے کا مرکز میانمار کا شہر سیگناگ میں 10 کلومیٹر زیر زمین تھا، زلزلے کے بعد 6.4 شدت کا آفٹر شاک بھی آیا جبکہ وقفے وقفے سے آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔میانمار کے سرکاری ٹیلی ویژن ’ ایم آر ٹی وی ’ نے ٹیلی گرام میسیجنگ ایپ پر بتایا کہ زلزلے میں کم از کم 144 افراد ہلاک اور 732 زخمی ہوئے ہیں۔

بڑے پیمانے پر تباہی کی وجہ سے میانمار کی الگ تھلگ فوجی جنتا کی جانب سے بین الاقوامی امداد کی ایک غیر معمولی درخواست کو جنم دیا ہے، جس نے مسلح گروہوں کے سامنے وسیع و عریض علاقہ کھو دیا ہے۔ چھ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
زلزلے کے جھٹکے تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، بھارت، لاؤس اور چین میں بھی محسوس کیے گئے ہیں، زلزلے کے باعث خوفزدہ شہری گھروں سے باہر نکل آئے، بنگلہ دیش، بھارت، لاؤس اور چین میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

قبل ازیں خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق میانمار میں زلزلے کے نتیجے میں 20 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ سیکڑوں اموات کا خدشہ ہے۔طاقتور زلزلے کے بعد تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں افراتفری پھیل گئی، زیر تعمیر عمارت گرنے سے 81 مزدور ملبے تلے دب گئے جبکہ 3 افراد لقمہ اجل بنے۔

بنکاک میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگ خوف و ہراس کے عالم میں سڑکوں پر نکل آئے جن میں سے زیادہ تر ہوٹل کے مہمان تھے جنہوں نے غسل خانے اور تیراکی کے ملبوسات پہن رکھے تھے۔میانمار کے فائر سروسز ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ’ہم نے تلاشی کا کام شروع کر دیا ہے اور ینگون کے ارد گرد جا کر ہلاکتوں اور نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے، اب تک ہمارے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘
منڈلے سے سوشل میڈیا پوسٹس میں منہدم عمارتوں اور سڑکوں پر ملبہ بکھرے ہوئے دکھایا گیا ہے، ’رائٹرز‘ فوری طور پر ان پوسٹس کی تصدیق نہیں کرسکا۔ینگون میں رابطہ کرنے والے عینی شاہدین نے بتایا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر ینگون میں بہت سے لوگ عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
پاکستانی وزارت امور خارجہ کے کرائسز مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ میانمار اور تھائی لینڈ میں زلزلے کے پیش نظر ینگون اور بینکاک میں پاکستانی سفارت خانے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستانی شہریوں کی مدد کیلئے تیار ہیں۔اعلامیہ کے مطابق صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے وزارت امور خارجہ کے کرائسز مینجمنٹ یونٹ کو بھی فعال کردیا گیا ہے۔
ینگون میں چارج ڈی افیئرز انوار زیب سے 959880922880 پر اور قونصلر محمد شعیب سے 959448999967 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، قونصلر اسسٹنٹ علی شیر سے 959457099977 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
بینکاک میں فرسٹ سیکریٹری فہد سے 66959681506 پر، قونصلر اسسٹنٹ یاسین سے 66916977702 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔کرائسز مینجمنٹ یونٹ وزارت خارجہ اسلام آباد سے 0519207887 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان مشکل وقت میں میانمار اور تھائی لینڈ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

