”سوہنیا وے مُکھ تیرا سجری سویر اے“ یہ ایک گیت کا مکھڑا ہے جو فلم شرابی میں میاں ناصر جلال بھنڈارہ پر فلمایا گیا۔ یہ گیت خود انہی کا لکھا ہوا تھا اور ایک اچھے دور میں انہوں نے یہ ایڈونچر کیا اور اہل خانہ کی مشاورت سے فلم بنائی۔اس فلم میں وہ خود ہیرو بھی تھے۔فلم کی نمائش میں تاخیر ہوئی،ناتجربہ کاری کے باعث فلم کے گیت/گانے نمائش سے بہت پہلے ریلیز کر دیئے گئے، فلم کی ناکامی کا باعث یہ تاثر بھی بنا کہ شاید پرانی ہے کہ گیت بہت عرصہ پہلے چل چکے تھے۔اس فلم کی ایڈیٹنگ میں،میرا بھی حصہ رہا کہ میاں ناصر جلال بھنڈارہ سے گہری دوستی تھی، یہ تو بتانے سے قاصر ہوں کہ اس دوستی کا آغاز کب اور کیسے ہوا، لیکن یہ عرض کر سکتا ہوں کہ اب بھی یہ یاد نہیں، بہرحال اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ تعلق ایسا بنا جو بھائیوں ہی کے مطابق تھا، ہم ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہو گئے، ناصر جلال نے ایل ایل بی کیا لیکن افتاد طبع کے باعث وکالت کی بجائے ادب سے لو لگا لی،اچھے شاعر اور ادیب بنے،ایک دور تھا کہ کراچی والے نسیم الدین ایڈووکیٹ (مرحوم) اور واشنگٹن والے اظہر زمان اور ہم ادبی اور دوستانہ محافل بھی سجاتے رہے،وقت یوں ہی گذرا،ہم دونوں اپنے اپنے وقت پر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، بچے ہوئے وہ جوان بھی ہو گئے اور ان کی شادیاں بھی ہوئیں، ہم خاندان کے فرد کی طرح ان میں شریک ہوتے رہے،کیا اچھا وقت تھا کہ ہم سب احترام و محبت کے باہمی رشتے میں منسلک تھے، میرے بچے اور ناصر کے بچے ہم سب کی جان تھے، ناصر کے چھوٹے بھائی پرویز بھنڈارہ اور سدید بھنڈارہ اپنے بڑے بھائی کے حوالے سے میری عزت بھائیوں ہی کی طرح کرتے ہیں جبکہ اِن تینوں بھائیوں کے بڑے بھائی میرے لئے ادب کا مقام اور بہت معتبر رہے۔
وقت پَر لگا کر گذرتا ہے،اس عرصہ میں میری اہلیہ رخصت ہوئیں تو مجھے دلاسہ دینے کے لئے ناصر اور ان کی اہلیہ نے اپنا وقت عطاء کیا، پھر2009ء میں میرا بائی پاس آپریشن ہوا اور اب سے دو تین سال قبل ناصر بھی دِل کے ہاتھوں مجبو ہوئے، بہترین علاج کے باوجود کمزور ہوتے چلے گئے حتیٰ کہ جب ان کی نواسی کا نکاح ہوا تو وہ تیز چلنے پھرنے سے گریزاں تھے، وقت اپنا حساب لیتا ہے ناصر اور ان کا خاندان متوسط طبقہ کے زمیندار اور اراضی و گاؤں کا تعلق پاکپتن شریف سے ہے۔وہ اپنی بیماری اور اس میں اپنی مصروفیات کے باعث میل جول کا سابقہ سلسلہ بحال نہ کر سکے لیکن فون اور کبھی کبھار خیریت کے لئے آنا جانا تھا، میں اگر تعلقات کے حوالے سے ماضی میں جھانکوں تو ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے،اس لئے اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ تعلق مضبوط ترین دھاگے سے بندھا ہوا تھا، چند روز قبل میں اور میاں محمد اکرم اکٹھے ملنے گئے اور طویل وقت گذارا۔
کہتے ہیں دنیا میں آنے اور جانے کا وقت متعین ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو رات قبر میں آنا ہو وہ بھی نہیں ٹلتی، یہ حالیہ جمعہ کی صبح کا ذکر ہے کہ میرے پیارے کزن میاں اکرم نے فون پر ہچکچا اور حوصلہ دِلا کر بتایا کہ جمعرات کو ناصر جلال دنیا میں اپنا وقت پورا کر کے آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئے،دِل غم و اضطراب سے دھڑک اُٹھا،رات کو رہائش پر گیا تو پرویز اور سدید سے ملاقات ہو گئی۔پتہ چلا کہ ڈاکٹر نے صحت مند قرار دیا لیکن وقت نے مہلت نہ دی اور وہ چلے گئے، ان کے صاحبزادے عمر اور سرمد دونوں ملک سے باہر ہوتے ہیں،اُن کی آمد کے باعث تدفین میں تاخیر ہوئی، وہ دونوں پہنچ گئے اور آج (اتوار) دس بجے صبح سروسز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں نمازِ جنازہ ادا ہو گی اور میت پاکپتن جائے گی جہاں ان کو آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا اور اِس سے قبل تین بجے سہ پہر وہاں بھی نمازِ جنازہ ادا ہو گی۔دِل بوجھل اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا گو ہے۔

