ممبئی(خصوصی رپورٹ)10 فروری 2026 کی وہ صبح دہلی کی عام صبحوں جیسی نہیں تھی۔ فضا میں ایک عجیب سی گھٹن تھی، جیسے وقت خود رک کر کسی بڑے المیے کا تماشہ دیکھ رہا ہو۔ تہاڑ جیل کے بھاری بھرکم گیٹ کے سامنے ایک گاڑی آ کر رکی۔ دروازہ کھلا اور ایک ایسا شخص باہر نکلا جس کا قد تو چھوٹا تھا، لیکن اس نے کروڑوں دلوں میں اپنی جگہ بنائی تھی۔ یہ راجپال یادو تھا— وہ فنکار جس نے برسوں تک لوگوں کے غموں کو قہقہوں میں بدلا تھا، لیکن آج اس کی اپنی آنکھوں میں ایک ایسا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا جس کا کوئی کنارہ نہ تھا۔
راجپال کے ذہن کے پردے پر 2010 کی یادیں کسی ڈراؤنی فلم کی طرح چل رہی تھیں۔ وہ جوش، وہ جنون جب اس نے ‘اتا پتا لاپتا’ نامی فلم کی ہدایت کاری کا خواب دیکھا تھا۔ اس نے مرلی پروجیکٹس سے 5 کروڑ کا قرض لیا، یہ سوچ کر کہ کامیابی قدم چومے گی، لیکن باکس آفس کے بے رحم نمبروں نے اس کے خوابوں کی کرچیاں اڑا دیں۔ وہ 5 کروڑ، سود اور تاخیر کی دیمک لگ کر 9 کروڑ بن چکے تھے۔ چیک باؤنس ہوتے رہے اور عدالتوں کی پیشیاں اس کے فن کو نگلتی گئیں۔
جیل کی دہلیز پر کھڑے ہو کر جب اس نے حکام کی طرف دیکھا، تو اس کی آواز میں وہ کھنک نہیں تھی جو کبھی فلمی ڈائیلاگز میں گونجتی تھی۔ اس کی آواز لرز رہی تھی۔”سر، کیا کروں؟” اس نے ایک گہری آہ بھری۔ “پیسے نہیں ہیں صاحب… اور کوئی اپائے (راستہ) بھی نہیں دکھتا۔”اس نے ایک لمحے کے لیے رک کر گرد و نواح کا جائزہ لیا، جیسے وہ کسی مانوس چہرے کو ڈھونڈ رہا ہو، لیکن وہاں صرف خاموشی تھی۔
“سر، ہم سب اکیلے ہیں۔ کوئی دوست نہیں ہے۔ اس آگ سے مجھے اکیلے ہی گزرنا ہوگا۔”یہ الفاظ نہیں تھے، بلکہ اس تنہائی کا مرثیہ تھا جو کامیابی کے ڈھلتے ہی ہر انسان کا مقدر بن جاتی ہے۔
صرف چھ دن پہلے، 4 فروری کو، جسٹس سوارانا کانتا شرما کے کمرہ عدالت میں امید کی آخری شمع بھی بجھ گئی تھی۔ راجپال نے بہت منتیں کیں، مہلت مانگی، 2025 میں 75 لاکھ کی قسط بھی جمع کرائی، مگر قانون کے ترازو میں جذبات کا کوئی وزن نہیں تھا۔ عدالت کا فیصلہ پتھر کی لکیر تھا: “عوامی حیثیت قانون سے بڑی نہیں ہو سکتی۔”
راجپال نے ایک آخری بار کھلے آسمان کی طرف دیکھا۔ 15 سالہ طویل قانونی جنگ اب ختم ہو چکی تھی۔ وہ شخص جس نے کبھی سٹیج پر بادشاہوں کے رول کیے تھے، آج ایک ہارے ہوئے سپاہی کی طرح تہاڑ کے اندھیروں میں قدم رکھ رہا تھا۔
جیل کا بڑا دروازہ ایک بھاری آواز کے ساتھ بند ہوا۔ باہر کی دنیا میں اب بھی لوگ اس کی پرانی فلمیں دیکھ کر ہنس رہے ہوں گے، مگر سلاخوں کے پیچھے ایک فنکار اپنی زندگی کے سب سے بڑے المیے کا پہلا باب لکھ رہا تھا۔

