کینیڈا کی 35 سے 40 فیصد آبادی کرائے کے گھروں میں رہتی ہے۔ ان میں وہ تعداد شامل نہیں ہے ، جوسٹوڈینٹ ویزہ اور ریفیوجی اسٹیٹس پر آئے ہوئے لوگ پراپرٹیز مالکان کو کیش کرایہ دے کر غیر منظور شدہ بیسمنٹ اپارٹمنٹس یا شیئرنگ رومز میں رہتے ہیں۔ پچھلے تین سے پانچ سالوں میں کینیڈا میں رینٹل پراپرٹیز کے کرایوں میں مسلسل اضافے کا رجحان ہے۔ اس کی بڑی وجہ گھروں اور رینٹل پراپرٹیز کی قیمتوں، پراپرٹی ٹیکسز، مارٹگیج پیمنٹ ، اور یوٹیلیٹی بلز میں ہوش ربا اضافہ ہے۔
نئے آنے والے امیگرینٹس کے لئے اپنے گھر کا خواب اب صرف خواب ہی رہ گیا ہے۔ کیونکہ ٹورونٹو جیسے بڑے شہروں میں گھروں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایک اوسط گھر کی کم سے کم قیمت ایک ملین ڈالرز کے قریب ہے۔ ایک نئی امیگرینٹ فیملی اگر اپنا پہلا اسٹارٹر ہوم خریدنا چاہے تو اس کے لئے بڑی مشکلات ہیں، 20 فیصد ڈائون پیمنٹ دینے کے لئے کم سے کم 2 لاکھ ڈالرز سیونگ اکائونٹ میں موجود ہونا ضروری ہیں۔ پھر 8 لاکھ کی مارٹگیج لینے کے لئے کم از کم سالانہ آمدنی ایک لاکھ ساٹھ ہزار ڈالرز سے دو لاکھ ڈالرز کے درمیان ہونی چاہئے جو اکثر فیملیز کی نہیں ہوتی۔
اگر کسی جادو کے ذریعے مارٹگیج مل بھی جائے تو ان فیملیز کو ہوم آنر شپ کی بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ 8 لاکھ کی مارٹگیج کی کم سے کم ماہانہ پیمنٹ 4000 ڈالرز بنتی ہے۔ پراپرٹی ٹیکس بھی تقریباً 500 ڈالرز ماہانہ دینا پڑتا ہے۔ دو سو ڈالرز ماہانہ ہوم انشورنس اور سات آٹھ سو ڈالرز ماہانہ یوٹیلیٹی بلز کے اخراجات میں چلے جاتے ہیں۔ یوں کل ملا کر ایک ایوریج گھر کی آنر شپ کا ماہانہ خرچ تقریباً ساڑھے پانچ ہزار ماہانہ تک چلا جاتا ہے۔ زیادہ تر فیملیز کی ماہانہ آمدنی کا ساٹھ سے ستر فیصد ہوم آنر شپ کی قیمت چکانے میں چلا جاتا ہے۔
یہ ہے وہ سٹریس جو آج کل کینیڈا میں اسٹارٹر فیملیز اور فرسٹ ٹائم ہوم بائرز کو جھیلنا پڑتی ہے۔ اب آپ خود ہی سوچیں کہ اس فیملی کے ذہنی تنائو کی حالت کیا ہوتی ہوگی جسے اپنی ماہانہ آمدنی کا کم سے کم ساٹھ 60 سے پینسٹھ 65 فیصد صرف گھر کی ہوم آنر شپ کی قیمت چکانے میں خرچ کرنا پڑتا ہوگا۔ بقایا 35 فیصد آمدنی سے کیسے وہ اپنا ماہانہ خرچ پورا کرتے ہونگے؟۔
میں آپ سے یہ کوئی افسانہ یا کہانی بیان نہیں کررہا ہوں، بلکہ اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں بڑی ذمہ داری کے ساتھ ایک سٹارٹر امیگرینٹ فیملی کی حالت زار بیان کررہا ہوں۔ اگر میری بات پر یقین نہ آئے تو مجھ سے میسینجر پر رابطہ کرلیجئے، میں کچھ اسٹارٹر فیملیز سے آپ کا انٹرویو کرادوں گا۔ آپ کی تسلی ہو جائے گی۔
میں ایک حساس قلم کار اور سوشل ایکٹیوسٹ ہوں۔ سماجی مسائل پر قلم اور آواز اٹھاتا ہوں۔ یہاں کینیڈا میں کئی ممبر پارلیمنٹ میرے ذاتی دوست ہیں۔ پرائیویٹ گفتگو میں ، یہ سارے مسائل ان کے سامنے رکھتا ہوں ۔ وہ خود بھی بے خبر اور بے حس نہیں ہیں۔ انہیں ان تمام مسائل کا ادراک ہے۔ میں خوش گمانی رکھتا ہوں، اور انہیں بینیفٹ آف ڈائوٹ دیتا ہوں کہ شاید پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتے ہوں، اگر نہیں اٹھاتے تو شاید اپنی ہائی کمانڈ کو ان مسائل کے بارے میں ضرور بتاتے ہوں گے۔
ہر حال یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ کینیڈا میں ایک امیگرینٹ اسٹارٹر فیملی کو ہوم آنر شپ کی مد میں بڑا عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد شدید ترین ہائوسنگ بحران ، رہائشی گھروں کی قلّت اور گھروں کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لئے کینیڈا کے پالیسی میکرز نے سنہء 1946 میں ایک دور رس اور تاریخ ساز فیصلہ کیا تھا۔ وہ فیصلہ کینیڈا ہائوسنگ اینڈ مارٹگیج کارپوریشن کا قیام تھا۔ کینیڈا ہائوسنگ اینڈ مارٹگیج کارپوریشن ایک کرائون کارپوریشن یعنی ریاستی ادارہ ہے۔ جس کے قیام کا بنیادی مقصد ان تمام لینڈرز یعنی مارٹگیج فراہم کرنے والے اداروں کو ریاستی ضمانت فراہم کرنا ہے جو ایک عام کینیڈین شہری کو گھر خریدنے کے لئے مارٹگیج فراہم کرتے ہیں۔
اگر ان دانشمند فیصلہ سازوں نے آج سے 79 سال پہلے یہ دور رس فیصلہ نہ کیا ہوتا تو آج کینیڈا میں یہ 60 فیصد ہوم آنر بھی نہ ہوتے اور نہ ہی کینیڈا میں کوئی امیگرینٹ آکر بستا۔ کووڈ 19 کی وباء بھی تیسری عالمی جنگ سے کم نہ تھی۔ اور کینیڈا میں گھروں کی اچانک قیمتیں بھی کووڈ 19 کی وباء کے بعد ہی بڑھی ہیں۔ کینیڈا کے فیصلہ سازوں کے لئے یہ ایک بہت ہی اچھا موقعہ ہے اگر وہ چاہیں تو گھروں کی ناقابل برداشت قیمتوں اور اسٹارٹر فیملیز کے اپنے گھر کے خواب کو عملی شکل دینے کے لئے اور اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے کوئی بڑا تاریخ ساز فیصلہ کردیں۔ کینیڈا میں کھربوں ایکڑ کرائون لینڈ ( ریاستی زمین) بے آباد پڑی ہے۔
“اگر آج کے فیصلہ ساز ”
” کینیڈا لینڈ اینڈ ہائوسنگ ڈیولپمنٹ ” کے نام سے ایک کرائون کارپوریشن قائم کردیں اور کینیڈا کے ہر بڑے شہر کے مضافات میں بے آباد کرائون لینڈ (سرکاری زمین) کے کچھ قطعات مختص کرکے بلڈرز کے کسی کنسورشیم کو مفت دے دیں اور بلڈرز کو پابند کردیں کہ وہ ان بڑے شہروں کے پلاننگ ڈپارٹمنٹس سے ایسے سب ڈویژن کی منظوری حاصل کریں جہاں چھوٹے لاٹ سائز پر اسٹارٹر فیملیز اور فرسٹ ٹائم ہوم بائرز کے لئے دو سے تین کمروں اور کم سے کم تین واش رومز پر مبنی مکان صرف تعمیری لاگت اور حکومت کی طرف سے مقرر کردہ جائز منافع پر فروخت کریں گے، تو مجھے یقین ہے کہ ایک ملین قیمت والا گھر صرف چار سے پانچ لاکھ ڈالرز یعنی آدھی قیمت پر اسٹارٹر فیملیز اور فرسٹ ٹائم ہوم بائرز کو مل جائیں گے۔
ریاست کو اپنے شہریوں کو صرف مفت زمین ہی تو دینی ہے۔ باقی کام بلڈرز اور ریگولیٹرز کے کنسورشیم کا ہوگا۔ یہ ایک قابل عمل تجویز ہے۔ اس میں غور فکر کے ساتھ مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔ میں اپنے اس کالم کو انگریزی میں ترجمہ کرکے کچھ جاننے والے ممبر پارلیمنٹ اور انگریزی اخبارات گلوب اینڈ میل اور ٹورونٹو اسٹار کو بھی بھیجوں گا تاکہ میری آواز دور تک پہونچے اور کینیڈا میں نئے آنے والے امیگرینٹس اور اسٹارٹر فیملیز کو کچھ ریلیف مل سکے۔
میں ایک معمولی قلم کار اور سوشل ایکٹیوسٹ ہوں۔ نقار خانے میں طوطی کے جتنی آواز میں جو کچھ بول سکتا ہوں بولتا ہوں، اگر آپ بھی کینیڈا میں نئے امیگرینٹس ہیں اور اپنے نئے ذاتی گھر کا خواب دیکھ رہے ہیں تو میری آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیے، اپنے ممبر پارلیمنٹ کے پاس جائیے اس کو کینیڈا لینڈ اینڈ ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ نام کی کرائون کارپوریشن قائم کرنے کی تجویز دیجئے۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ تجویز ایک دن پورے کینیڈا کی آواز ہوگی۔ انشاء اللہ۔

