روزنامہ امرزو(مرحوم) میں کام کرتے ہوئے ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کو مل جاتا تھا،اس ادارے کے وہ ایام بھی یادگار ہیں کہ ہمارے سینئر اگرچہ اس افسوس کا اظہار کرتے کہ صحافت وہ نہیں رہی جو1958ء سے قبل تھی، میں 1963ء میں روزنامہ ”امروز“ سے منسلک ہوا اور دو وقفوں سے یہاں قریباً پچیس سال خدمات انجام دیں، جب مجھے امروز کی ٹیم میں شامل کیا گیا تو اس وقت پی پی ایل (پروگریسو پیپرز لمیٹڈ) نیشنل پریس ٹرسٹ کا حصہ تھا، یہ ادارہ تحریک پاکستان کے نمایاں رہنما میاں افتخارالدین نے شروع کیا۔ روزنامہ امروز کے علاوہ روزنامہ ”پاکستان ٹائمز“(انگریزی) سپورٹس ٹائمز اور لیل ونہار اس ادارے سے شائع ہوتے تھے۔ فیض احمد فیض بھی پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر ر ہے اور دوسری طرف امروز کی سربراہی چراغ حسن حسرت نے بھی کی۔میری شمولیت کے وقت ظہیر بابر(احمد ندیم قاسمی کے بھانجے) ایڈیٹر اور معروف مارکسٹ عبداللہ ملک چیف رپورٹر تھے۔سید اکمل علیمی اور عالم نسیم بھی رپورٹنگ میں تھے۔
اس دور6ستمبر1965ء کا وہ دن آیا جب معمول کے مطابق ظہیر بابر (مرحوم) کے آفس میں رپورٹرز میٹنگ ہو رہی تھی یہ روز کا معمول تھا۔ابھی بات ہو رہی تھی کہ ایک بڑے زوردار دھماکے کی آواز آئی جس سے عمارت بھی لرزی، ہم سب دفتر سے نکل کر نیچے سڑک پر میو ہسپتال کے آؤٹ ڈور کی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو گئے، باتیں ہو رہی تھیں کہ کیا ہوا،مجھے کچھ عرصہ پہلے کا واقع یاد آیا جب ایف16 نے ساؤنڈ بیریر کراس کیا(جہاز کی رفتار کو آواز سے بڑھایا) تو دھماکہ ہوا اور مال کے ریسٹورنٹ لارڈز کے شیشے ٹوٹ گئے تھے،میں نے اس بناء پر عرض کیا کہ یہ جہاز کے ساؤنڈ بیریر کا کرشمہ ہے تو عبداللہ ملک نے جھڑک دیا، بولے! جاؤ جا کر معلوم کرو،ایسا احساس ہوتا ہے کہ گوالمنڈی میں بم گرا ہے،میں خاموش ہو کر دوسری طرف ہو گیا۔ بہرحال تھوڑی دیر بعد معلوم ہو گیا کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں حملہ کر کے واہگہ کی بین الاقوامی سرحد عبور کر لی ہے اور ہمارے شاہین پیدل فوج کی مدد کے لئے گئے ہیں،اس کے بعد ہنگامی میٹنگ میں فرائض طے پا گئے، میں عالم نسیم اور سید اکمل علیمی الگ الگ روانہ ہوئے۔ میں جب ریلوے سٹیشن کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ پورا شہر امڈ پڑا اور واہگہ کی طرف جا رہا ہے،پُرجوش نعرے بھی لگ رہے تھے۔ ہم نے رپورٹنگ کی غرض سے سب کے تاثرات بھی لئے۔بہرحال شالامار باغ سے کچھ آگے پاکستان منٹ کے سامنے ہمارے مسلح افواج اور رینجرز کے علاوہ پولیس کے جوان ہجوم کو روک رہے تھے اور بڑی مشکل سے ان کو واپس بھیجا جا رہا تھا۔ یہ جذبہ آخر وقت تک برقرار رہا، اور عوام نے اپنے وطن اور پاک فوج کے لئے بازو اور دِل وا کر دیئے۔
جنگ کے دِنوں میں معرکہ آرائی والے علاقے میں جانا ممنوع تھا تاہم ہم دن بھر شہر کی رپورٹنگ کرتے،خبریں بناتے،سینئرز کو دکھاتے اور پھر آئی ایس پی آر کے مقامی دفتر جا کر کلیرنس لیتے، ان دِنوں کرنل شجاع انچارج تھے۔ وہ ہمارے سکپر عبدالحفیظ کاردار کے برادر نسبتی اور سپن باؤلر تھے، ہم انہیں شجاع کبوتری کہتے تھے کہ ان کا سٹائل ہی ایسا تھا۔
دن کو رپورٹنگ رات کو شہری دفاع کی ڈیوٹی۔ یوں ہم بھی ملکی دفاع میں حصہ ڈالتے رہے، عوام کے اندر اتنی یگانگت پیدا ہو گئی کہ سب بھائی بھائی تھے۔ یقین مانئے ان دِنوں حقیقی معنوں میں جرائم کی شرح صفر ہو گئی تھی۔ سترہ روزہ جنگ کے بعد سیز فائر ہوا تو صحافیوں کی تگ و دو شروع ہو گئی کہ سرحدی محافظوں تک جا کر حقائق معلوم کریں اور رپورٹنگ کی جائے۔ جنگ کے دوران ہماری رانی توپ کا بہت شہرہ تھا جو منٹ کے پاس رحمان پورہ میں نصب تھی اور یہاں سے گولے جا کر بھارتی انفنٹری میں تباہی مچاتے تھے جبکہ ہمارے شاہینوں نے تو تاریخ رقم کی تھی۔میں ایک روز پھرتا پھراتا، رانی توپ والے مقام پر چلا گیا تو پاک فوج کے جوان نے مجھے روک لیا،جب میں نے اپنا تعارف کرایا اور کارڈ دکھایا تو اس نے اپنے بیٹری انچارج میجر کے پاس بھیج دیا،ان کا اسم گرامی میجر اسماعیل تھا۔انہوں نے سخت سی جانچ پڑتال کی اور مطمئن ہو گئے،بعدازاں میری ضد اور خواہش پر انہوں نے مجھے اس علاقے کے دفاعی ذمہ دار3بلوچ کے کرنل تجمل ملک کی طرف روانہ کر دیا کہ وہ فیصلہ کریں گے۔ متعلقہ فوجی مجھے ایڈ جو ٹینٹ اقبال چیمہ(مرحوم) کے سپرد کر آیا۔ وہ ساہیوال سے تعلق رکھتے اور گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم رہے تھے اور ان کو کرکٹ کا شوق تھا چنانچہ ان سے گفتگو ہوئی اور تسلی بھی ہو گئی تو انہوں نے مجھے کہا ابھی تھوڑی دیر میں بٹالین کمانڈر آئیں گے تو میں آپ(مجھے) کو ان کے سامنے پیش کروں گا۔ تم ان سے وعدہ کر لینا کہ بٹالین ہسٹری اردو میں لکھو دو گے، میں نے جلدی سے سر ہلایا اور کہا ”میں لکھ دوں گا“ بہرحال کیپٹن چیمہ کے تعاون سے کرنل تجمل ملک سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اپنے دفاعی علاقے میں آنے کی اجازت دے دی۔یوں میرا وہاں آنا جانا ہو گیا تو سیکنڈ اِن کمانڈ نفیس انصاری،میجر نواز،میجر انور شاہ اور سٹاف افسر خالد انور سے بھی تعارف ہو گیا،اس بٹالین (3بلوچ) کی ذمہ داری جلو سڑک سے جلو ریلوے سٹیشن کے درمیانی علاقے کی تھی اور ان سب نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور دشمن کی پیش قدمی روکی ان سب سے گفتگو اور بات چیت ہی سے مجھے براہِ راست حالات سے آگاہی ہوئی اور معلوم ہوا کہ بھارت نے ستمبر 65ء میں بھی خاموشی سے رات کی تاریکی میں حملہ کیا تھا جسے ہمارے ان جوانوں نے ناکام بنایا، 3بلوچ کے بائیں طرف سائیفن تک فرنٹیئر فورس اور دائیں طرف برکی نہر تک پنجاب رجمنٹ تھی اور میجر عزیز بھٹی(نشانِ حیدر) ادھر ہی شہید ہوئے تھے۔
میں نے آج تک جو بھی لکھا وہ انہی بہادر افسروں اور جوانوں کی زبانی ہے۔ کرنل تجمل ملک، میجر جنرل ہو کر ریٹائر ہوئے اور اللہ کو پیارے ہو چکے۔کیپٹن چیمہ جوانی میں وفات پا گئے۔ میجر نفیس انصاری کرنل ہو کر ریٹائر ہوئے جبکہ سٹاف افسر خالد انور لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے وہ جنرل مشرف سے سینئر تھے اور جو دو افسر جنرل مشرف کے آرمی چیف بننے پر ریٹائر ہوئے، خالد انور دوسرے نمبر پر تھے۔
قارئین!ستمبر1965ء کی جنگ میں ان سمیت دیگر بہادروں نے جس طرح مادرِ وطن کا دفاع کیا۔بھارتی ارادے ملیا میٹ کئے وہ ایک بڑی تاریخ ہے،میں نے کئی بار جستہ جستہ لکھا اور کئی غلط فہمیاں بھی دور کیں۔ آج اتنا ہی کہ مئی2025ء میں ہمارے بہادر وطن کے سپوتوں نے تو بھارت کو دھول ہی چٹا دی یہ بھی یاد رہے اِن شاء اللہ مزید بھی لکھوں گا۔

