نئی سولر پالیسی ”غریبوں کا بھلا ہوگا“؟

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل، بے نظیر بھٹو کے بھائی سردار فاروق خان لغاری کے صاحبزادے ہیں، گزشتہ روز انہوں نے قومی اسمبلی میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے نئی سولر پالیسی کا دفاع کیا اور بہت کچھ بتایا بھی ہے،ان کی خوبصورت بات یہ ہے کہ نئی سولر پالیسی سے غریب آدمی متاثر نہیں ہوگا جبکہ وزیراعظم محمد شہبازشریف سولر پر نیٹ میٹرنگ ختم کرنے اور نئے سولر صارفین سے فاضل بجلی گیارہ روپے فی یونٹ خریدنے اور جو بجلی گرڈ سے صارف استعمال کریں گے وہ پچاس روپے فی یونٹ کے حساب سے بل دیں گے۔ یوں حال ہی سینکڑوں صارفین جو نیٹ میٹرنگ کی اجازت کے منتظر ہیں اور لاکھوں روپے خرچ کرکے سولر لگوا چکے ہیں، پریشان ہو کر رہ گئے کہ ان کی بلنگ سولر سے قبل والی بلنگ سے بھی بڑھ گئی ہے، چنانچہ اس پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے علاوہ میڈیا پر بھی احتجاج ہوا اور سوشل میڈیا پر تو الزامات کا طوفان برپا ہو گیا، ایسا ایسا کچھ کہا جا رہا ہے کہ ہم لکھنے کی تو دور کی بات عام بات چیت کے دوران بھی نہیں کہہ سکتے کہ سوشل میڈیا پر بات بہت دور تک جا چکی ہے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے نوٹس لے کر نیپرا کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کو کہا تاہم یہاں بھی ہدایت کی گئی کہ سولر والے جو صارفین متاثر ہیں ان کے حوالے سے غور کیا جائے دوسرے معنوں میں جو پالیسی مرتب ہو چکی وہ تبدیل نہیں ہوگی اور اب سولر لگوا کر لوڈشیڈنگ اور بھاری بلوں سے نجات ممکن نہ ہو گی کہ وزیر محترم کے مطابق پالیسی پر صرف ایک ماہ کے لئے عملدرآمد روکا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں انہوں نے ہم جیسے گرڈ سے براہ راست بجلی حاصل کرنے والوں سے گہری ہمدردی کا اظہا رکیا، ان کا موقف ہے کہ ملک میں سولر بجلی مالدار لوگوں نے ہی لگوائی ہے اور ان کا بوجھ گرڈ والوں پر منتقل ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے جو تفصیل انہوں نے بیان کی وہ ناقابل فہم ہے اگر کسی ماہر صحافی کی عقل میں آ گئی ہو تو ہمیں بھی سمجھا دیں کیونکہ اویس لغاری صاحب تو ہمیشہ اپنی مثال دیتے ہیں اور اس حوالے سے بھی انہوں نے بتا دیا کہ وہ خود سولر گرڈ چلا رہے ہیں۔ اویس اچھے نوجوان ہیں کہ کسی بھی مسئلہ پر بات ہو تو وہ اپنی مثال پہلے دیتے ہیں کہ ان کی جاگیر میں یہ سب ہو رہا ہے۔

محترم وفاقی وزیر نے غریبوں کا درد محسوس کیا اور روائتی بیان کے ذریعے کہا کہ غریبوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ انہی وزیر کی وزارت نے سو سے تین سو یونٹ تک خرچ کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا اور ان پر فکسڈ ٹیکس عائد کر دیا،یہ پہلے بھی تھا لیکن ایک اصطلاح پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈکی چل رہی تھی جو اب نہیں ہوگی کہ یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اب ہر صارف فکس ٹیکس ادا کرنے کا پابند ہوگا اور یوں غریبوں پر ”اثر“ نہیں ہوگا اور اس ٹیکس سے ”بہتوں کا بھلا“ ہوگا اور پھر یہ صارف اگر قدرتی گیس سے مستفید ہو رہے ہیں تو سوئی گیس والوں کو بھی فکس چارجز دیتے ہی ہیں اور چوں نہیں کررہے۔

تھوڑا عرصہ قبل میں نے اپنے صاحبزادے کے ساتھ مشورہ کرکے سولر لگوانے کے بارے میں سوچا تو اس نے حساب پہلے ہی سے لگا رکھا تھا، اس حوالے سے بتایا کہ سولر کی سہولت سے پوری طرح مستفید ہونے کے لئے قریباً بارہ لاکھ خرچ کرنا ہوں گے اور یہ صرف دوپہر کے استعمال سے پہلے ہوں گے کہ رات کو گرڈ والی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، گزشتہ روز اس نے (وہ خود بی ایس سی آنرز آئی ٹی ہے) نئی تفصیل سن کر بتایا کہ اب یہ ممکن نہیں ہوگا کہ ہم جو موجودہ بل ادا کرتے ہیں سولر لگوا کر اس سے بڑھ جائے گا البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم سولر لوڈ ہی کے مطابق بیٹریاں لے کر گرڈ سے نجات حاصل کریں لیکن ان بیٹریوں سمیت سولر 20لاکھ تک لگے گا اور ہر پانچ سال بعد نئی بیٹریاں لانا ہوں گی، یوں حساب لگا لیں کہ سالانہ ڈیڑھ دو لاکھ کا خرچ یہ بھی ہو گا اور پھر انورٹر بھی تو خراب ہوگا اس کی مرمت یا تبدیلی بھی تو خرچ بڑھائے گی، تو قارئین! ہم نے کانوں کو ہاتھ لگایا کہ نہ تو نومن تیل ہے اور نہ ہم رادھا کو نچا سکتے ہیں لہٰذا اسی پر گزارہ کرنا ہوگا اگرچہ وزیر موصوف کے مطابق اب ہمیں بجلی مزید مہنگی خریدنا ہوگی۔

قارئین! بہت افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ جن عالمی معالج حضرات نے یہ تجویز پیش کی وہ بھول گئے کہ اس نئی پالیسی کے تحت اب سولر بازار میں ٹھنڈ پر جائے گی اور جو حضرات سولرپینلز اور آلات درآمد کر چکے ہیں وہ اب بیٹھ کر مکھیاں ماریں گے کہ فروخت ممکن نہ ہوگی اور یوں ہمارے دوست ممالک سے ٹریڈ کے حوالے سے جو خرید و فروخت ہو رہی تھی وہ بھی متاثر ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ اب تک جو امپورٹر اپنا مال بیچ چکے وہ شکر کررہے ہیں کہ پالیسی ان کے مال کی فروخت کے بعد نافذ العمل ہونے والی ہے، البتہ ہم جیسے سفید پوش جو کم لاگت سے کم از کم لوڈشیڈنگ سے بچنے پر غور کررہے تھے اب کانوں کو ہاتھ لگا چکے ہیں، البتہ وزیر موصوف نے سرمایہ دار حضرات کو یہ ترغیب ضرور دی ہے کہ وہ بیٹریوں پر بھی اخراجات کریں اور لیسکو، پیسکو وغیرہ سے نجات حاصل کریں۔ وزیر موصوف نے ٹیوب ویل کی مثال دی کہ سولر پینل والوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ٹیوب ویل دن (دھوپ) کے وقت پینلز پر چل جاتے ہیں لیکن وہ یہ کیوں بھول گئے کہ ضرورت تو رات کی بھی ہے اور نئی پالیسی سے یہ سہولت استعمال کرکے خرچ برداشت کرنا ممکن نہیں رہے گا، سو غریب تو غریب سفید پوش طبقہ بھی خواب دیکھتا رہے گاکہ وہ تو پہلے ہی کئی قسم کے اخراجات کا بوجھ اٹھا رہا ہے اب مزید بڑھ گیا ہے۔ وزیر خود جاگیردار طبقے سے ہیں اس لئے ان کی سوچ پر تبصرہ ممکن نہیں، وزیراعظم کو خود ہی کچھ سوچنا ہوگا۔