نئی قانون سازی کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی

اسلام آباد(نامہ نگار)وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں پنجاب طرز کے بلدیاتی انتخابات کیلئےقانون سازی کی منظوری دے دی جس کے بعد دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی ہو گئے ہیں۔

وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اسلام آباد میں وارڈز (الیکشن وارڈز) کی تعداد بڑھائی جائے گی تاکہ نئے قانون کے تحت انتخابات کرائے جا سکیں۔

آج جمعہ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں چیف کمشنر اسلام آباد نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق بریفنگ دی۔ کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 3 دسمبر اور 30 دسمبر کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق بھی کی۔

اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈینینس 2025 کی کارروائی کی بھی توثیق کی گئی، جس کے بعد نئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کی جائے گی۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 26 اگست کے اجلاس کے فیصلوں اور آف گرڈ لیوی سے متعلق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کو ریلیف دینے کے فیصلے کی توثیق بھی کی۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری کا عمل بہت شفاف طریقے سے مکمل ہوا اور یہ معاشی اصلاحات کا حصہ ہے، جس سے خسارے میں جانے والے ریاستی اداروں کی بحالی ممکن ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر معاشی استحکام تک پہنچایا ہے۔

وزیراعظم نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے اپنی حالیہ ملاقاتیں بھی یاد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور تعاون کے مواقع بڑھ رہے ہیں، جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو بھی خوشگوار رہی جس میں دونوں ممالک کے تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا۔