نئے سال، دُعا اور دُعاء مغفرت کی استدعا!

نئے سال کے حوالے سے خبریں ابھی تک آ رہی ہیں، ہر سال کی طرح اِس بار بھی دنیا بھر میں نئے عیسوی سال کا بھرپور اور پُرجوش انداز میں استقبال کیا گیا،اِس بار پاکستان نے بھی حصہ ڈالا۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں بھی آتش بازی کا خوبصورت مظاہرہ کیا گیا، لاہور کیلئے لبرٹی چوک (ڈی چوک) کا انتخاب کیا گیا اور انتظامات کی نگرانی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کی۔یہ مظاہرہ بہت بہتر رہا اور عوام نے بھی خوشی کا اظہار کیا یہ کہنا کہ حفاظتی انتظامات بھی اچھے کیے گئے کوئی غیر متعلق بات نہیں ہو گی۔بہرحال میں تو ان حضرات و خواتین کے ساتھ ہوں، جنہوں نے نئے سال کے حوالے سے دنیامیں امن اور سکون کیلئےدُعا کی۔

اس نئے سال کے حوالے سے جو دنیا بھر میں مروج ہے،بعض مسلم ممالک (سعودی عرب) میں ہجری سن بھی رائج ہے تاہم دنیا سے تعلق کیلئےعیسوی کیلنڈر ہی مستعمل ہے۔ مسلمان کو عیسوی سال پر یوں بھی کوئی اعتراض نہیں کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے موسوم ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے پیغمبر ہیں،ان پر ہمارا بھی یقین و اعتماد ہے بلکہ ہمارے بزرگوں کے مطابق تو دجال کو حضرت مہدی علیہ السلام کی قیادت میں شکست ہو گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتارا جائے گا پھر مسجد ِ اقصیٰ میں ان کی امامت میں نماز ہو گی ہم تو اپنے رسول اکرمؐ کی ہدایات کی روشنی میں حضرت عیسیٰ مسیح اللہ علیہ السلام کو وہی حیثیت دیتے ہیں جو اللہ نے اُن کے لئے متعین فرمائی۔ البتہ ان عیسائی افراد کی سمجھ نہیں آتی جو مسیح علیہ السلام ہی کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے خصوصاً ان افراد اور حکام سے تو شکوہ ہے جو خود کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیروکار مانتے ہوئے بھی صہیونیوں کے مددگار ہیں،(حقیقی یہودی مختلف ہیں) نیو یارک میں ان سب نے ممدانی کو ووٹ دے کر جیت میں حصہ لیاحالانکہ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنے والے یہ صہیونی ہی تھے جو اب اب غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔

یہ تاریخ ہے اور اس کا مطالعہ مسلمانوں کو ہی نہیں عیسائیوں کو بھی کرنا چاہئے اور مظلوم فلسطینیوں کے لئے اپنے رویے کو مثبت کرنا چاہئے جہاں تک ہم مسلمانوں کا تعلق ہے تو ہمارا اسلامی کیلنڈر ہجری ہے جو حضورؐ کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت سے موسوم ہے اس ہجری سال کا آغاز محرم الحرام کے مقدس مہینے سے شروع ہوتا ہے دُکھ بھری بات یہ ہے کہ اسی ماہ میں بڑے سانحات پیش آئے ان میں معرکہ کربلا بھی شامل ہے، جس میں نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ اور ان کے اہل خانہ کے علاوہ ان کے ساتھی بھی شہید ہوئے۔یوں ہم مسلمان نئے ہجری سال کی آمد پر جشن نہیں مناتے البتہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر سلامتی کی دُعائیں مانگتے ہیں۔یہ سب انفرادی طور پر ہوتا ہے، حالانکہ ہم مسلمان اسے اجتماعی طور پر بھی خوش آمدید کہہ سکتے ہیں کہ مساجد میں دُعائیہ محفل کا انعقاد کر کے اللہ سے رحم و کرم کی دُعا مانگیں،اپنے عمل پر غور کریں اور انسانیت پر عمل پیرا ہونے کا عہد بھی کریں جو تعلیمات نبویؐ ہیں،اس سے زیادہ اور کچھ عرض نہیں کر سکتا کہ میں نے بھی نئے سال کی مبارکباد میں شامل ہونے کے علاوہ دُعا بھی مانگی کہ اللہ دنیا میں اَمن و سکون عطاء فرما دیں اور لوگوں کو انسانیت کی راہ دکھائیں کہ اَمن ہو اور عوام آرام سے اپنی زندگی گذار سکیں۔

قارئین! اِس تمہید کے ساتھ مجھے عرض کرنا ہے کہ آج جمعتہ المبارک کے روز میں نے اپنے گھر میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا جو میرے والدین اور خاندان کے بزرگوں کی مغفرت کیلئے ہے،اگر تھوڑی تفصیل کی اجازت دی جائے تو عرض کروں گا۔یہ سلسلہ میری مرحومہ اہلیہ نے سالانہ بنیادوں پر شروع کیا تھا میرے والد محترم اور ان کے چالیس روز بعد میرے تایا جان کا انتقال ہوا،والد چودھری احمد الدین1971ء دسمبر کی ابتداء ہی میں اللہ کی طرف واپس چلے گئے، اگلے روز جب ہم قل خوانی پر بیٹھے تھے تو آسمان میں جنگی طیاروں کی گونج تھی، تب کے مغربی پاکستان اور اب کے بنگلہ دیش میں بھارت کی ریشہ دوانیوں کے باعث جنگ چھڑ گئی تھی۔لاہور کی سرحدوں پر بھی فوجیں آمنے سامنے تھیں،1965ء کی نسبت فرق یہ تھا کہ برکی سیکٹر میں ہم بی آر بی کے پار تھے اور دشمن ہڈیارہ نہر کے پار تھا، عرض یہ تھی کہ میری اہلیہ مرحومہ نے یہ سلسلہ شروع کیا تو جب تک اُس کی صحت نے اجازت دی وہ مجھے کہہ کر یہ اہتمام کرا لیتیں، چنانچہ ہمیشہ2-3دسمبر کو ہم قرآن خوانی کا اہتمام کرتے۔ بڑی منڈی سے فروٹ لاتے، گھروں میں کھانا پکواتے اور میری اہلیہ نے پارچات کا جو اہتمام کیا ہوتا وہ تقسیم کر دیئے جاتے۔ ہمارا یہ اہتمام قرآن خوانی اور خیرات الگ الگ ہوتا۔تاہم جب اہلیہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہوئیں تو یہ سلسلہ موقوف ہو گیا جو اُس کی وفات کے بعد بھی شروع نہ ہو سکا تاہم اِس سال مجھے یاد آیا تو صاحبزادے عاصم سے مشورہ کے بعد اہتمام کا فیصلہ کر لیا جو بوجوہ2-3دسمبر کو نہ ہو سکا آج (جمعتہ المبارک) کو دُعا رکھی گئی اور اللہ کی رحمت سے بخیرو خوبی انجام پائی۔قارئین سے استدعا ہے کہ وہ بھی دُعاء مغفرت فرما دیں۔

مجھے اتنا اچھی طرح یاد ہے کہ میرے والد محترم کو ایک تو میرے ناز اُٹھانے کا شوق تھا اور پہناوے کا خیال رہتا، مجھے بچپن ہی میں بحری فوج کی یونیفارم اور گرم ڈبل بریسٹ سوٹ پہناتے تھے۔ یہ عرض کرنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ وہ تحریک پاکستان کے بہت ہی متحرک کارکن تھے۔ انہوں نے دورِ جوانی میں مسجد شہید گنج تحریک سے اِدھر رجوع کیا تھا اور پھر تحریک پاکستان کے دوران خود کو گھر بار سے لاتعلق ہو کر پورا وقت وطن کی تکمیل میں وقف کر دیا وہ مسلم لیگ نیشنل گارڈ میں نیچے سے ضلع سالار تک ترقی کر کے پہنچے، والد محترم کی سرگرمیوں کا ذکر یہاں مناسب نہ ہو، تاہم یہ عرض کر دوں کہ انہوں نے صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں بھی اپنی خدمات انجام دیں، ریڈیو پاکستان والے ٹرک کے ڈرائیور وہ تھے،اس حوالے سے پھر کبھی۔ میرے تایا جان مرحوم محمد دین پولیو کا شکار ہونے کے باوجود بہترین ٹن سمتھ تھے، اس دور میں تانگوں کی بتیاں بنانے میں شہرت یافتہ تھے کہ ان کا مقابل کوئی نہیں تھا، دادا جان اور پھوپھو میری پیدائش سے پہلے انتقال کر چکے تھے، دادی جان نے باقاعدہ کورس کر کے مڈ وائف کے طور پر گھر سنبھالا تھا اور بچوں کی پرورش حتیٰ کہ ہمارے لاڈ بھی دیکھے، میں آج بھی جب پیچھے پلٹ کر دیکھوں تو مجھے وہ یاد آتی ہیں، سردیوں میں سکول جانے سے قبل مجھے اپنے پاس بٹھا کر گاڑھی کشمیری چائے اور توے پر دیسی گھی میں تیرتے کلچہ سرخ کر کے ناشتہ کرواتیں اور تب ایک روپیہ پاکٹ منی بھی دیتیں جو سارا دن خرچ کر کے بھی ختم نہ ہوتا، والدہ کا پیار اور ناراضی بھی یاد آتی ہے۔ بہرحال یہ اہتمام اور آج بھی قرآن خوانی دُعاء مغفرت اپنی جگہ اور کھانے سمیت فروٹ کے ساتھ کپڑوں کی تقسیم اپنی جگہ، آپ بھی میرے آباء کیلئے دُعاء مغفرت اور میرے لئے دُعا کیجئے کہ اللہ مجھے توفیق دے اور میں اپنی زندگی تک یہ سلسلہ بحال رکھ سکوں اور بعد میں میرے بچے یہ فرض جانیں۔