روم( ٹائمز آف انڈیا، ٹائمز آف اسرائیل) نیوز ٹریک کے مطابق اطالیہ کی حکومت نے نفرت انگیز اور انتہاپسندانہ خطبات دینے پر پاکستانی نژاد امام ذوالفقار خان کو اہلِ خانہ سمیت ملک بدر کرتے ہوئے پاکستان واپس بھیج دیا ہے۔ یہ کارروائی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی۔
اطالوی ذرائع کے مطابق امام ذوالفقار خان گزشتہ تقریباً 29 برس سے اطالیہ میں ایک مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہا تھا، اسے سرکاری مراعات، تنخواہ اور رہائش کی سہولت بھی حاصل تھی۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ کے خطبے کے دوران امام کی جانب سے غیر مسلموں کے خلاف نفرت اور تشدد پر مبنی بیانات دیے گئے، جنہیں اطالوی قوانین اور قومی سلامتی کے خلاف قرار دیا گیا۔
اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی اپنی جگہ مگر کسی بھی مذہب کے نام پر نفرت، انتہاپسندی اور تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت نے امام ذوالفقار خان کی رہائش کی اجازت منسوخ کرتے ہوئے فوری طور پر ڈیپورٹیشن کے احکامات جاری کیے۔
اطالوی حکومت کے مطابق یہ اقدام ریاستی قوانین کے تحفظ اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے واضح کیا ہے کہ ملک میں شدت پسندی کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔

