اوسلو(واشنگٹن پوسٹ، رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سنہری کامیابیوں اور عالمی امن کیلئے کوششوں کے باوجود اب تک دنیا کے معتبر ترین اعزاز ’نوبیل امن انعام‘ سے محروم ہیں۔ 79 سالہ صدر ٹرمپ کی اس انعام کیلئےبے چینی عروج پر ہے اور وہ مہینوں سے اس شکایت میں ہیں کہ ان کی امن مشنز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے امن مشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے سات جنگیں ختم کی ہیں اور آٹھویں جنگ ختم کرنے کے قریب ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاید نوبیل کمیٹی انہیں یہ انعام نہ دے، مگر ان کا موقف ہے کہ عالمی امن میں ان کی کوششیں مستحق ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکے علاوہ فیلڈمارشل جنرل عاصم منیر نے بھی جون میں ہونیوالی ٹرمپ سے ملاقات کے بعدان کیلئےنوبل انعام کیلئے سفارش کی تھی.
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ٹرمپ کی خواہش نے عالمی سفارتکاری پر اثرات ڈالے، اور ممکنہ طور پر اسی دباؤ کے باعث حماس اور اسرائیلی حکام کے درمیان غزہ جنگ بندی کے معاہدے میں تیزی آئی۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے سابق مذاکرات کار کرنل ڈورون حدار کے مطابق اوسلو میں نوبیل کمیٹی کے اعلان کی ٹائم لائن کی وجہ سے فریقین معاہدے پر جلد پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان، اسرائیل اور کمبوڈیا نے ٹرمپ کو باضابطہ طور پر نامزد کیا ہے، جبکہ تائیوان کے صدر نے بھی عندیہ دیا کہ اگر ٹرمپ چین کے فوجی عزائم روکنے میں کامیاب ہوئے تو وہ نوبیل انعام کے مستحق ہوں گے۔
واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی عوامی مہم اور لابنگ بے مثال ہے، کیونکہ نوبیل انعام کے انتخاب کا عمل عام طور پر خفیہ اور پرسکون ماحول میں ہوتا ہے۔ اوسلو کے پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹر نینا گریگر کے مطابق یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔
امریکی سیاست میں بھی ٹرمپ کیلئےنوبیل انعام کی حمایت جاری ہے۔ فائزر کے سی ای او البرٹ بورلا اور سینیٹر بل کیسیڈی نے کورونا وائرس ویکسین ’آپریشن وارپ اسپیڈ‘ کی کامیابی کی بنیاد پر انہیں انعام کا مستحق قرار دیا ہے۔ اسرائیل میں یرغمالیوں کے اہلِ خانہ نے بھی غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی میں کردار کی وجہ سے انعام دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر ٹرمپ یہ انعام حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو بھی ان کے حامی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور مستقبل میں دوبارہ نامزدگی کی کوششیں جاری رہیں گی۔

