نگاہیں،مسقط میں مذاکرات کی میز پر؟

آج جب یہ سطور شائع ہو چکیں، میرے شہر لاہور میں لوگ دیوانہ وار بسنت منا رہے ہوں گے جبکہ اسی روز میرے پیارے ملک سے تھوڑی دور مسقط(اومان) میں ایک انتہائی اہم میٹنگ ہو گی جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ یہ خطہ خلیج (مشرق وسطےٰ) کسی متوقع جنگ سے بچ سکے گا یا پھر آگ اور بارود کا کھیل شروع ہو جائے گا جس کے اثرات محدود نہیں ہوں گے کہ برصغیر بھی متاثر ہوگا، لکھنے کے لئے قلم اٹھایا تو کالم کے عنوان کی نسبت سے بسنت کے جشن ہی پر لکھنے کا خیال تھا،لیکن مسقط کے مذاکرات بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں،ان کی کامیابی یا ناکامی پوری دنیا کے لئے اپنے اثرات مرتب کرے گی۔

امریکہ اس وقت ایک مست ہاتھی اور بگڑے بیل کی طرح دنیا بھر کو روندھنے پر اُترا ہوا ہے۔واحد سپر پاور کے امتیاز کی بدولت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آپے سے باہر ہیں جس کی بنیادی وجہ پینٹاگون کا بنایا گیا وہ سو سالہ منصوبہ ہے جس کے تحت امریکہ کی اپنی سرحدیں محفوظ کی گئیں اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا تو امریکہ نے دنیا کی تھانیداری سنبھال لی اس کی افواج کرائے کی فوج کے روپ میں بھی سامنے آئیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر مسلمان ملکوں کی دفاعی حیثیت ٹھیکے پر لے لی،اس طرح امریکہ کی وہ حکمت عملی کہ اس تک دشمن آ ہی نہ سکے پوری ہو گئی، تاہم قدرت کا اپنا عمل ہوتا ہے۔ایران میں ایک ایسا انقلاب آیا جو امریکی منصوبہ سازوں کی سوچ سے باہر تھا۔آیت اللہ خمینی کی قیادت میں زبردست امریکی حمایت کے باوجود شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کو تاج و سخت چھوڑ کر جانا پڑا اور یہ مذہبی انقلاب مستحکم ہو گیا،امریکہ اور مغربی ممالک کی توقعات کے برعکس ایرانی انقلاب کی جڑیں مضبوط ہوتی گئیں اور ایران خوشحال بھی ہو گیا۔منصوبہ سازوں کو یہ کب برداشت ہوتا، چنانچہ ایران کو عراق کے ساتھ جنگ میں اُلجھایا گیا،کئی سال کی تگ و دو کے بعد بھی ایران سلامت رہا، دونوں ممالک مسلمان ملک تھے اور اس لیکن سازشی تھیوری کے تحت ان کو لڑایا گیا، اس ناکامی کے بعد سکیم بی شروع ہو گئی۔عراق، شام اور دیگر ممالک کی خود مختاری ختم کرائی گئی یہ مسلمان آپس میں بھی الجھتے رہے اور آج حالات یہ ہیں کہ غزہ میں تاریخ کی بدترین نسل کشی کے باوجود مظلوم فلسطینی تاحال برے ترین حالات میں ہیں،ان کا پُرسانِ حال کوئی نہیں۔ صہیونی (اسرائیل) حکومت تمام عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے بربریت جاری رکھے ہوئے ہے،ہم مسلمان مذمت پر مذمت کرتے چلے جاتے ہیں لیکن اتنی ہمت نہیں کہ دست قضا کو روک سکیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی دنیا کے کسی اصول و اخلاق کو نہیں مانتے اور اپنے طور پر دنیا فتح کرنے کے نشے میں چُور اس طرف بڑھتے جا رہے ہیں،ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں،پاکستان بہتر تعلقات کے باوجود مضبوط موقف اختیار کئے ہوئے ہے تاہم ایران آنکھ میں خار کی طرح کھٹکتا ہے کہ ایران کی نوجوان نسل نے سائنس میں ترقی کی اور کمال کیا،نہ صرف ایٹمی توانائی حاصل کرنے کے لئے زیر زمین سلسلہ بنایا بلکہ میزائل ٹیکنالوجی میں بھی عروج حاصل کیا، ایران کی قیادت نے اپنے اصول کے مطابق عراق، شام، لبنان اور فلسطین میں اپنی موجودگی ثابت کی۔ آزادی فلسطین کے لئے جس تنظیم نے بھی ہمت کی ایران نے اس کی عملی مدد کی حتیٰ کہ لبنان کی حزب اللہ اور فلسطین کی حماس سے بھی بھرپور تعاون کیا اور اس کی سزا بھی پائی کہ امریکہ نے صہیونیوں کی حمایت میں ایران پر ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا بھرپور حملے سے زیر زمین ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا، اتنے بڑے نقصان کے باوجود ایران نے سرنڈر نہ کیا، اس کی معاشی ناکہ بندی کی گئی، اس کے باوجود ایران زندہ رہا اور جب امریکی عزائم کے دوران ایران نے تل ابیب میں خطرے کے سائرن بجوا دیئے تو پلان بی یا سی کے تحت مہنگائی کے نام پر رجیم چینج کا نعرہ لگایا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی کھلی حمایت اور اسرائیل نے مکمل مداخلت کی،موساد کے پھیلائے جال کی وجہ سے حالات خراب ہوئے اور تخت ایران سے محروم خاندان کے وارث نے بھی تخت شاہی کا دعویٰ کیا لیکن یہ بھی حل نہ بنا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے براہِ راست حملے کا اعلان کر دیا اور بڑا بحری بیڑہ بھی خلیج میں بھیج دیا، ایرانی قیادت پھر بھی نہ جھکی تو آٹھ جنگیں ختم کرانے والے ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے لئے مان گئے۔

اطلاعات یہی ہیں کہ ایران کی طرف سے جوابی طور پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے اعلان سے ممکنہ متاثرہ ممالک حرکت میں آ گئے اور امریکہ کو مذاکرات پر رضا مند کیا، ایرانی قیادت اس حوالے سے پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ وہ ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے مذاکرات کے لئے تیار ہے، لیکن کسی دباؤ میں نہیں آئے گی، یہ بھی ایک کھیل رہا جس میں پاکستان نے بھی دوست ممالک کے ساتھ مل کر کوشش کی اور مذاکرات کا فیصلہ ہو ہی گیا،اس میں بھی امریکہ نے اپنی سی کی تاہم ایران نے بھی ثابت قدمی ظاہر کی،طے پایا کہ مذاکرات ترکیہ میں ہو ں گے تاہم ایران نے بوجوہ ان مذاکرات کے لئے اپنے قریبی مسلمان ملک اومان میں بیٹھک کی اپیل کی جسے ابتداء میں مسترد کر دیا گیا تاہم اب خبر یہ ہے کہ ایران کی بات مان لی گئی ہے اور مذاکرات آج (جمعہ) مسقط(اومان) میں ہی ہوں گے، ان مذاکرات کی معاونت یا تعاون کے لئے پاکستان کو بھی دعوت دی گئی جو قبول کر لی گئی ہے کہ اس سے قبل قطر،یو اے ای، سعودی عرب مصر اور ترکیے کو بتایا جا چکا تھا۔

مسقط میں آج ہونے والے دو طرفہ مذاکرات بہت اہمیت کے حامل ہیں ان کی کامیابی کے لئے مسلمان دوست ممالک کی کوشش اور دنیا کی دعائیں ہو ں گی کہ یہ انتہائی نازک اور اہم ترین ہیں امریکہ کا مطالبہ(حکم) ہے کہ ایران اپنا ایٹمی توانائی کا پروگرام ترک کرے جبکہ ایران اس یقین دہانی اور اعلان کے ساتھ دستبردار ہونے سے انکاری ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن اور توانائی کی ضروریات کے لئے ہے وہ ایٹمی صلاحیت کو بم بنانے کے لئے استعمال نہیں کرے گا، اب یہ خبر بھی ہے کہ امریکی نمائندے ایران کے میزائل پروگرام پر بھی بات کریں گے خصوصاً بیلسٹک میزائل کا نام لیا گیا ہے۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے ایسا نہیں کرے گا کہ صہیونی تو یہی چاہتے ہیں کہ ان کے توسیع پسندانہ اور منتقمانہ رویے اور پروگرام کی راہ میں رکاوٹ نہ ہو اور وہ گریٹر اسرائیل کی تکمیل تک پہنچ جائیں۔ان مذاکرات سے خطہ اور برصغیر تو اپنی جگہ خود دنیا(گلوب) پر مرتب ہونے والے اثرات کا بھی خدشہ موجود ہے اس لئے بپھرے ہوئے سانڈ کے مقابلے میں خود داری کا مقابلہ ہے اللہ سے دُعا ہے کہ ہمدردوں کی دعائیں اور مذاکرات کے موقع پر موجود مسلمان ممالک کی کوشش بھی کامیاب ہو اور ایک بڑا خطرہ ٹل جائے۔