نہرو کے ایک تبصرے نے مزارِ قائد کی تقدیر بدل دی

کراچی (خصوصی رپورٹ)پاکستان کے بانی قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے مزار کی موجودہ شاندار عمارت دراصل ایک تاریخی واقعے کا نتیجہ ہے، جس کا تعلق بھارت کے پہلے وزیرِاعظم جواہر لال نہرو کے 1960ء کے دورۂ پاکستان سے جڑا ہے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) پر دستخط ہونے تھے۔ جواہر لال نہرو معاہدے پر دستخط کے لیے کراچی پہنچے۔ یہاں قیام کے دوران انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ قائدِاعظمؒ کے مزار پر حاضری دینا چاہتے ہیں۔

اُس وقت مزارِ قائد کی تعمیر ابتدائی مراحل میں تھی۔ موجودہ عظیم الشان عمارت کی جگہ ایک سادہ سا خیمہ نصب تھا، کچی سڑک تھی، اور اطراف کا علاقہ بہیدآباد کہلاتا تھا — جو غریب آبادی پر مشتمل تھا۔

روایت کے مطابق، نہرو مزار پر گئے، چند لمحے خاموشی سے کھڑے رہے، اور احتراماً فاتحہ کے بعد واپس روانہ ہوئے۔ اگلے روز جب وہ صدر ایوب خان سے ملاقات کیلئے گئے تو انہوں نے افسوس کے لہجے میں کہا”میں جناح کے مزار پر گیا۔ وہ شخص جو اپنے سوٹ پر گرد کا ایک ذرّہ برداشت نہیں کرتا تھا اُسے تم نے ایسی حالت میں چھوڑ رکھا ہے؟ میں نے یہ توقع نہیں کی تھی کہ تم لوگ اپنے بانی کے ساتھ ایسا سلوک کرو گے۔”

نہرو کے یہ جملے ایوب خان کیلئےباعثِ شرمندگی بن گئے۔ فوراً کابینہ کا اجلاس بلایا گیا، اور ایوب خان نے حکم دیا کہ مزار کو قائد کے شایانِ شان انداز میں تعمیر کیا جائے۔اسی فیصلے کے نتیجے میں مزارِ قائد کی تعمیر کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔

اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں کمشنر کراچی ہاشم رضا کا کردار کلیدی رہا۔ ہاشم رضا صاحب نے ہی وہ مقام منتخب کیا تھا جو پورے کراچی سے نمایاں نظر آتا تھا۔ بعدازاں مصری نژاد ماہرِ تعمیرات یحییٰ مرچنٹ نے مزار کا ڈیزائن تیار کیا، جسے پاکستان کے عظیم قائد کے وقار کے مطابق سمجھا گیا۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر نہرو 1960ء میں کراچی نہ آتے، یا انہوں نے وہ تبصرہ نہ کیا ہوتا، تو شاید مزارِ قائد آج اس شان و شوکت کے ساتھ نہ بنتا جس پر آج پوری قوم فخر کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں