یروشلم (ایجنسیاں)اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کے بل کی حمایت کر دی، یہ بل بدھ کو اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ ایجنسی کے مطابق اسرائیل کے یرغمالیوں اور لاپتا افراد کے کوآرڈینیٹر گل ہیرش نے تصدیق کی کہ وزیراعظم نیتن یاہو اس مجوزہ قانون کی حمایت کرتے ہیں، جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی۔
یہ بل دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت جیوش پاور پارٹی نے پیش کیا ہے، جس کی قیادت وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر کر رہے ہیں۔ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ کسی بھی شخص کو سزائے موت دی جا سکتی ہے جو اسرائیلی شہری کو نسلی تعصب، نفرت یا ریاستِ اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے ہلاک کرے۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو ماضی میں اس بل کے مخالف تھے کیونکہ اسے غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا، تاہم اب انہوں نے اس موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے حمایت کا اعلان کیا ہے۔
کنیسٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے بھی جیوش پاور پارٹی کی درخواست پر اس بل کو پہلے مرحلے میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔خیال رہے کہ اسرائیل میں کسی بھی بل کو قانون بننے کے لیے تین مراحل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت 10 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان قیدیوں کو تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا سامنا ہے، جب کہ وزیر ایتمار بن گویر کے اقدامات کے باعث جیلوں کے حالات مزید خراب ہو چکے ہیں۔

