لاہور(نمائندہ خصوصی +ایجنسیاں)دور آمریت میں بھی پولیس نے پریس کلب پر حملہ نہیں کیا۔ واقعہ کے ذمہ داران اعلیٰ پولیس حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کے خلاف پی ایف یوجے کی کال پر ملک بھر کی طرح لاہور پریس کلب میں بھی بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری، سی پی این ای کے صدر کاظم خان، ایمنڈ کے سینئر نائب صدر ایاز خان، سابق صدر سی پی این ای سید ارشاد عارف، ایچ آر سی پی کی کو چیئرپرسن منیزے جہانگیر سمیت صحافی قائدین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کے ذمہ دار اعلی پولیس حکام کے خلاف کارروائی کرے۔
سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر مقدمہ درج نہ کیا گیا تو ہم اس مقدمہ کے اندراج کیلئے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف اسلام آباد پولیس نیشنل پریس کلب کے اندر گھس کر صحافیوں کو مارتی اور تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور پھر وزیر مملکت طلال چودھری معافی مانگنے نیشنل پریس کلب پہنچ جاتے ہیں اور غیر مشروط معافی مانگتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ منافقت ہو نہیں سکتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پیکا جیسے کالے قوانین کا نفاذ کر کے آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر حملہ آور ہے جس کے خاتمے کیلئے صحافی کھڑے ہیں، ہم لاٹھیوں اور گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں، ہمارے بڑوں نے کوڑے اور قید و بند کی سزائیں برداشت کی ہیں اور ہم بھی جیل جانے اور جیل بھرو تحریک چلانے کیلئےتیار ہیں، ہم اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیں گے، یہ بھلے ہمیں گرفتار کریں، ہتھکڑی ہمارا زیور ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اس معاملہ کا مستقل حل نکالنے اور پیکا کے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
سی پی این ای کے صدر کاظم خان نے کہا کہ پی ایف یوجے، سی پی این ای اور ایمنڈ سمیت تمام صحافی تنظیمیں پیکا کے کالے قانون کے خاتمہ کیلئےمتحد ہیں۔
سابق صدر سی پی این ای سید ارشاد عارف نے کہا کہ پریس کلب آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے ادارے ہیں، ماضی کے دور آمریت اور مارشل لاء میں بھی پولیس کو پریس کلب پر حملہ اور گھسنے کی جرات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں اسلام آباد پولیس کے اعلی ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ایمنڈ کے سینئر نائب صدر ایاز خان نے کہا کہ آزادی صحافت پر کوئی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا، اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پیکا جیسے قوانین یوٹیوبرز کے خلاف نہیں بلکہ صحافیوں کے خلاف ہیں جو کسی بھی صحافتی تنظیم کیلئے قابل قبول نہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی کو چیئرپرسن اور معروف صحافی منیزے جہانگیر نے کہا کہ نیشنل پریس کلب پر پولیس کا دھاوا ایک سنگین حملہ ہے، میڈیا کے ادارے آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے ادارے ہیں۔ مسائل کے شکار دور آمریت میں بھی عوام اپنے مسئلے پریس کلبوں میں صحافیوں کے سامنے رکھتے تھے مگر اب پولیس پریس کلب آنے والے لوگوں کو گرفتار کرنے کی آڑ میں پریس کلب پر حملہ آور ہو جاتی ہے جو قابل برداشت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ کے خلاف پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پاس کی جائے جس میں اس بات کی گارنٹی رکھی جائے کہ عوام کے حق اظہار اور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کا پورا اختیار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پریس کلب ملک میں آزادی اظہار کی علامت ہیں، ان پر پولیس کے حملے شہری اور انسانی حقوق پر حملے ہیں۔ انہوں نے کہا ماضی میں کوئی پریس کلب پر حملہ کیا اور اسے سیل کیا گیا اور اب معاملہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر حملہ کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس کے خلاف انسانی حقوق کمیشن پاکستان، صحافی قیادت اور پی ایف یوجے کے ساتھ ہے۔
پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر خواجہ نصیر نے کہا کہ آزادی صحافت پر کسی بھی حملے کو روکنے کیلئےپنجاب اسمبلی کے تمام پارلیمانی رپورٹر اپنے قائد اور سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے ارشد انصاری کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم اس معاملہ میں اسمبلی کی کارروائی کے بائیکاٹ سے لے کر اسلام آباد پارلیمنٹ کے باہر دھرنے میں شرکت کیلئےتیار ہیں۔
پی یو جے کے سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی نے کہا کہ ہم اپنے صدر نعیم حنیف کی قیادت میں پی ایف یوجے کی اس تحریک کا ہراول دستہ ہیں، کاظم خان، ایاز خان اور ارشد انصاری ہمیں اس جدوجہد کے حوالے سے جو ذمہ داری دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔
پی یو جے (دستور) کے جنرل سیکرٹری رحمان بھٹہ نے کہا کہ کسی ایک صحافی اور صحافتی ادارے پر حملہ پوری صحافی کمیونٹی پر حملہ ہے اور اس معاملہ میں پی یو جے (دستور) اپنی صحافی برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔
پی یو جے کے جنرل سکریٹری قمر الزمان بھٹی نے کہا کہ دنیا بھر میں عدالتیں اور پریس کلب ہی دو ایسے ادارے ہیں جہاں لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے جاتے ہیں، اگر کوئی شہری یا شہری تنظیمیں یا مظاہرین کسی مسئلہ پر پریس کلب جاتے ہیں تو پولیس کا یہ کام نہیں کہ انہیں گرفتار کرنے کے نام پر پریس کلب پر حملہ کیا جائے اور انہیں کوریج دینے والے صحافیوں کو مارا جائے۔ انہوں نے اس افسوسناک واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
احتجاجی مظاہرے کے موقع پر جماعت اسلامی لاہور کے جنرل سیکرٹری قیصر شریف، مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تابش قیوم، پاکستان کسان اتحاد (خالد کھوکھر) کے ترجمان سعید جعفر ڈوگر، سینئر صحافی رئیس انصاری، پی ایف یوجے کے ممبر ایف ای سی شفیق اعوان، اعجاز مقبول، پی یو جے کے نائب صدر ندیم زعیم، لاہور پریس کلب کے سینئر نائب صدر افضال طالب، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ، خزانچی سالک نواز، ممبران گورننگ باڈی سید بدر سعید، سرمد فرخ خواجہ، رانا شہزاد احمد، شاہدہ بٹ، سول سوسائٹی کے رہنما شیخ سلطان، سینئر صحافی رفیق خان، امجد عثمانی، انیس گل، شعیب سلیم، منصور بخاری، صلاح الدین بٹ، عامر سلامت، سید شاکر علی، جاوید ہاشمی، سعید لودھی، حارث مرغوب، عامر نوید چودھری، خالد قیوم، ظہیر شہزاد، ذوالفقار علی مہتو، عطیہ زیدی، فراز فاروقی، عمر شریف، عمر حفیظ، محمد علی، محسن بلال، جمال احمد، عدنان شیخ، ظہیر شیخ، جمیل شیخ، محسن اکرم، غضنفر اعوان، مجتبیٰ باجوہ، ڈاکٹر شجاعت حامد، عندلیب اسد سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔
صحافیوں نے آزادی صحافت کے حق اور پولیس گردی کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔

