نیویارک(نمائندہ خصوصی) پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے عالمی برادری کو مل کر عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
ڈان نیوز کے مطابق، اسحٰق ڈار نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے باہمی تعاون سے متعلق سلامتی کونسل اجلاس کی صدارت کی، جسے پاکستان کے لیے ایک اعزاز قرار دیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ اسلاموفوبیا ایک عالمی خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے او آئی سی اور اقوام متحدہ کو مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ اسحٰق ڈار نے کشمیر سمیت فلسطین، لیبیا، افغانستان، شام، اور یمن جیسے مسائل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان تنازعات کے پرامن حل کے لیے مؤثر بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، او آئی سی کا بانی رکن ہونے کے ناطے، ہمیشہ اسلامی دنیا کے مسائل کو اجاگر کرنے میں صفِ اول پر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دیا جائے، اور بھارت کے غیر قانونی قبضے کا خاتمہ کیا جائے۔
اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ او آئی سی اور اقوام متحدہ کے درمیان مضبوط شراکت داری دنیا بھر میں انسانی بحرانوں کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 23 جولائی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی، جس میں تمام ممالک سے زور دیا گیا کہ وہ تنازعات کے پُرامن حل کے لیے گفت و شنید، ثالثی، اور عدالتی ذرائع بروئے کار لائیں۔
اسحاق ڈار کا خطاب دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان اسلاموفوبیا اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے میں پیش پیش ہے۔

