واشنگٹن ( امریکی میڈیا، وائٹ ہاؤس)امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ دینے پر دنیا سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے نیٹو کے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کیے لیکن ضرورت کے وقت وہ ہمارے دفاع کیلئے موجود نہیں۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کئیرسٹارمر نے انہیں مایوس کیا، جنگ جیتنے کے بعد انہوں نے جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا، میں نے انہیں بتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ چین کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن موجودہ صورتحال کے باعث انہیں امریکا میں رہنا پڑے گا، اسی لیے چین کے دورے کو ایک ماہ کیلئے ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
اس سے قبل پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ امریکا گزشتہ 40 برس سے کئی ممالک کی حفاظت کر رہا ہے لیکن اب وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک آبنائے ہرمز میں مدد کیلئے پُرجوش نہیں، وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کی امریکا نے برسوں مدد کی اور انہیں بیرونی خطرات سے بچایا۔
انہوں نے چین، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت دیگر ممالک سے بھی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جن ملکوں کا تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے انہیں اب آگے آنا چاہیے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایرانی حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو بھی ڈبو دیا ہے جبکہ ایران کا بحری اور فضائی دفاع مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈر بھی زندہ نہیں اور اس وقت ایران میں مذاکرات کے قابل کوئی قیادت موجود نہیں۔جنگ کے خاتمے سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم ان کے خیال میں جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

