امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ریاست مین کی ڈیموکریٹک گورنر جینیٹ ملز کے ساتھ تصادم ہوا۔ ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کے خواتین کے کھیلوں میں شرکت پر پابندی عائد کرنے کے اپنے ایگزیکٹو آرڈر کی مخالفت پر ریاست سے وفاقی فنڈز روکنے کی دھمکی دی۔
گورنر جینیٹ ملز نے مزاحمتی انداز اپناتے ہوئے وائٹ ہاؤس اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو چیلنج کیا اور ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس پر پابندی کے حکم کو مسترد کر دیا۔
ٹرمپ دو جماعتی (بائی پارٹیزن) گورنرز کے ایک گروپ سے خطاب کر رہے تھے جب انہوں نے اچانک ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کے معاملے کی طرف رخ کیا اور پوچھا: “کیا مین (Maine) کا کوئی نمائندہ یہاں موجود ہے؟”
گورنر جینیٹ ملز نے جواب دیا: “ہاں، میں یہاں ہوں۔”
جمعہ کے روز، وائٹ ہاؤس کے اسٹیٹ ڈائننگ روم میں ٹرمپ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن گورنرز سے گفتگو کر رہے تھے جب انہوں نے اپنے حالیہ ایگزیکٹو آرڈر کا ذکر کیا، جس کے تحت ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین کے کھیلوں میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔
اس کے بعد، ٹرمپ نے مین کی گورنر ملز کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ آیا ان کی ریاست اس حکم پر عمل کرے گی؟ اس پر ملز نے سخت اعتراض کیا۔
ٹرمپ نے گورنر جینیٹ ملز سے سوال کیا کہ کیا وہ ان کے حکم کی پابندی کریں گی؟
ملز نے دو ٹوک جواب دیا: “میں ریاستی اور وفاقی قوانین کی پاسداری کر رہی ہوں۔”
اس پر ٹرمپ نے اصرار کیا: “ہم ہی وفاقی قانون ہیں۔”
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر مین نے ان کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو اسے وفاقی فنڈنگ سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا.
“تمہیں اس حکم کی پابندی کرنی ہوگی، تمہیں اس پر عمل کرنا ہوگا، ورنہ تمہیں کوئی وفاقی فنڈنگ نہیں ملے گی۔”
لیکن گورنر ملز پیچھے نہیں ہٹیں۔ انہوں نے دوٹوک جواب دیا.
“عدالت میں ملاقات ہوگی!”
ٹرمپ نے جواب دیا”بہت اچھا! میں عدالت میں ملنے کا منتظر ہوں۔ یہ کیس تو بہت آسان ہوگا۔”
پھر کچھ لمحوں کے وقفے کے بعد، انہوں نے مزید کہا”اور گورنر کے بعد اپنی زندگی کا مزہ لو، کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ تم دوبارہ منتخب سیاست میں رہو گی۔”
یہ تصادم کمرے میں موجود دیگر گورنرز پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ہوائی کے گورنر جوش گرین، جو کہ ڈیموکریٹ ہیں، نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی گورنرز کو یہ بحث پریشان کن لگی۔
انہوں نے کہا”یہ کچھ زیادہ سخت محسوس ہوا—حالانکہ کوئی چیخ و پکار نہیں تھی، مگر یہ غیر ضروری تنازع تھا۔”

