وادی تیراہ میں مظاہرین پر فائرنگ کے واقعے پر جرگہ، کمانڈنٹ بریگیڈیئر کی شرکت

تیراہ، خیبر پختونخوا (نمائندہ خصوصی)خیبر پختونخوا کی وادی تیراہ کے علاقے مہمند غوز میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ واقعے کے بعد ایک اعلیٰ سطحی جرگہ منعقد ہوا، جس میں کمانڈنٹ بریگیڈیئر محمد قاسم سمیت سول و عسکری حکام اور مقامی عمائدین نے شرکت کی۔ جرگے میں واقعے کی انکوائری، شہداء کے لواحقین کیلئےمالی امداد، اور زخمیوں کے علاج کی یقین دہانی کروائی گئی۔

وادی تیراہ کے علاقے مہمند غوز میں مقامی افراد نے انسداد دہشت گردی کارروائیوں اور مارٹر حملوں کے خلاف احتجاج کیا، جس دوران مظاہرین پر فائرنگ کی گئی۔ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے مواصلات و تعمیرات سہیل آفریدی کے مطابق، مظاہرین فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کمپاؤنڈ کے باہر جمع ہوئے اور جب وہ گیٹ کے قریب پہنچے تو اچانک فائرنگ کی گئی۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ واقعے میں جانی نقصان اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ ضلعی حکام کے مطابق، فائرنگ مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ دہشت گردوں نے کی، تاہم بعض مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ فائرنگ ایف سی کے اہلکاروں کی جانب سے ہوئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ “دہشت گردوں کے گھناؤنے ارادے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔”

واقعے کے بعد مقامی جرگہ منعقد ہوا جس میں کمانڈنٹ ایف سی بریگیڈیئر محمد قاسم، سول و عسکری حکام، اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، جرگے نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے اور کسی بھی ادارے کو مظاہرین پر گولی چلانے کا اختیار حاصل نہیں۔

بریگیڈیئر محمد قاسم نے جرگے کو یقین دہانی کرائی کہ واقعے کی باقاعدہ انکوائری کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مارٹر گولہ حملے کے ذمہ دار کی شناخت ہو چکی ہے اور اس پر کارروائی جاری ہے۔

جرگے کے فیصلوں کے مطابق:سیکیورٹی فورسز ہر شہید فرد کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے معاوضہ دیں گی۔زخمیوں کا علاج ایف سی اسپتال میں مفت کیا جائے گا۔ہر زخمی کو 2.5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔اگر کوئی زخمی بعد میں انتقال کر جائے تو اسے شہداء پیکج میں شامل کیا جائے گا۔تمام مالی امداد سول انتظامیہ کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

کمانڈنٹ نے مزید اعلان کیا کہ ڈرون حملے اور مارٹر گولے اب معصوم شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے، تمام بند سڑکیں کھول دی جائیں گی اور تیراہ چیک پوسٹ پر عام شہریوں کو نہیں روکا جائے گا۔

جرگے کے اقدامات نے وقتی طور پر علاقے میں کشیدگی میں کمی پیدا کی ہے، تاہم عوامی حلقے اب بھی واقعے کی شفاف انکوائری اور مستقل حل کے منتظر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں