واشنگٹن:تلسی گبارڈ کے مؤقف میں تبدیلی، امریکی پالیسی پر سوالات

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)امریکا میں ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی پر سیاسی و پالیسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں ان کے ماضی کے بیانات اور موجودہ موقف کو ایک دوسرے سے متضاد قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سابق رکن کانگریس کی حیثیت سے تلسی گبارڈ نے 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اُس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا تھا اور واضح کیا تھا کہ امریکی صدر کو کسی بھی ملک کیخلاف کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری لینا ضروری ہے۔ انہوں نے 2018 میں “نو مور پریذیڈنشل وارز ایکٹ” کی بھی حمایت کی تھی جس میں صدر کے اختیارات کو محدود کرنے کی بات کی گئی تھی۔

تلسی گبارڈ نے اس وقت یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ ایران کیخلاف جنگ نہ صرف غیر قانونی ہوگی بلکہ یہ اتنی مہنگی اور تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگیں اس کے مقابلے میں معمولی محسوس ہوں گی۔

تاہم موجودہ صورتحال میں، جب وہ صدر ٹرمپ کی کابینہ میں ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کے عہدے پر فائز ہیں، وہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی کا دفاع کر رہی ہیں۔ انہوں نے حالیہ بیان میں کہا کہ صدر، بطور کمانڈر ان چیف، یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں کہ کون سا خطرہ فوری نوعیت کا ہے اور کب کارروائی ضروری ہے۔

امریکی سینیٹ کی سماعت کے دوران بھی انہوں نے یہی مؤقف دہرایا، جس پر ناقدین نے اسے واضح یوٹرن قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں شامل بعض رہنما، جو ماضی میں جنگ مخالف سمجھے جاتے تھے، اب حکومتی پالیسی کے دفاع میں پیش پیش ہیں۔

مزید برآں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کسی بھی صدر کے جنگ سے متعلق فیصلوں کا اندازہ صرف اس کی تقاریر یا کابینہ میں شامل افراد کی سابقہ رائے سے نہیں لگایا جا سکتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی نظام میں کانگریس کو جنگ سے متعلق اختیارات حاصل ہیں، تاہم عملی طور پر صدور اکثر ان اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلے کرتے رہے ہیں، جس پر ماضی میں بھی تنقید ہوتی رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی پالیسی پر مؤثر نگرانی کیلئے کانگریس کا فعال کردار ناگزیر ہے، بصورت دیگر صدارتی اختیارات میں اضافہ عالمی سطح پر نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔