واشنگٹن:ٹرمپ فیصلہ کرےجنگ جاری رکھنی ہے یانہیں:امریکی اخبار

واشنگٹن/تل ابیب ( نیویارک ٹائمز)ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھیں یا اسے ترک کریں۔

اخبار کے مطابق امریکی صدر کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اپنے طے کردہ مشکل اور سخت اہداف کے حصول کے لیے جنگ جاری رکھیں یا تنازع سے نکلنے کی کوشش کریں۔ امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ جنگ ایک کمزور دشمن کے خلاف شروع کی تھی، لیکن اب اس کی بھاری معاشی قیمت امریکا اور اتحادی برداشت کر رہے ہیں۔

ایران میں حکومت کی تبدیلی کا مقصد تاحال حاصل نہیں ہوا۔ میزائل حملوں سے ایرانی ٹھکانے، فضائی دفاعی نظام اور بحریہ کو نشانہ بنایا گیا، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے لیکن ان کے نظریات قائم ہیں اور مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب سائبر حملے اور آبی سرنگیں بچھانے میں مصروف ہیں۔

عراق کے سابق وزیر خارجہ کے مطابق یہ جنگ ٹیکنالوجی اور نظریات کی ہے اور ایرانی مضبوط مزاحمت کر رہے ہیں کیونکہ یہ ان کیلئے بقا اور فنا کا معاملہ ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اگر ٹرمپ جنگ چھوڑ دیتے ہیں تو ایران دوبارہ 10 یا اس سے زائد ایٹمی ہتھیار بنانے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ امریکی حکام اب تسلیم کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایران کی طاقت کو کم جانا تھا تاکہ وہ آبنائے ہرمز بند نہ کرے، عالمی معیشت پر اثر ڈالے اور خطے میں لڑائی پھیلا سکے۔

اخبار کے مطابق اوول آفس میں جب ٹرمپ نے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف سے پوچھا کہ امریکا آبنائے ہرمز فوری کیوں نہیں کھول سکتا، تو جنرل نے بتایا کہ اگر صرف ایک ایرانی فوجی یا ملیشیا کا رکن ہرمز میں اسپیڈ بوٹ لے کر آجائے تو وہ کسی بھی سپر ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی درخواست کہ اتحادی ملک آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی فراہم کریں، اسلئےعجیب ہے کہ یہ اتحادی وہی ہیں جن سے جنگ میں جانے سے پہلے مشورہ نہیں لیا گیا تھا۔

اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل جمعرات کی رات واشنگٹن پہنچے اور دو گھنٹے کی ہنگامی میٹنگ کی۔ اگلے دن امریکا نے 2500 میرینز اور تین جنگی جہاز مشرق وسطی روانہ کیے تاکہ اگر ٹرمپ فیصلہ کریں تو یہ اہلکار آبنائے ہرمز یا جزیرہ خارگ کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد فراہم کر سکیں۔

حکام کے مطابق اگر پہلے ہی حملے میں سپریم لیڈر سمیت ایرانی قیادت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بڑے حصے کو ختم کیا جاتا تو ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آتے، لیکن ایسا نہیں ہوا اور ریلیاں حکومت کی حمایت میں نکلی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اب یہ سوال ہے کہ کیا انہیں جزیرہ خارگ اور نیوکلیئر فیول قبضے میں لینے کیلئےمیرینز کو ایران بھیجنا چاہیے۔ جزیرہ خارگ پر قبضہ ہو بھی جائے تو چھوٹی کشتیوں پر سوار پاسداران انقلاب کے ارکان حملے جاری رکھ سکتے ہیں اور تیل کی پائپ لائنز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایران نے زیادہ تر یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کیلئےیہ یورینیم زیر زمین اسٹوریج میں محفوظ ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ یورینیم ملبے کے نیچے دبایا گیا ہے، جہاں سے اسے نکالنا مشکل اور تابکاری کے خطرات کے ساتھ ہے، جس سے امریکی اہلکار بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔