ورجینیا (نامہ نگار)امریکی ریاست ورجینیا کے شہر نیوپورٹ نیوز میں عدالت نے ایک اسکول ٹیچر ابیگیل زورنر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے انہیں 10 ملین (ایک کروڑ) امریکی ڈالر ہرجانے کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ مقدمہ 2023 میں پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق تھا جس میں ایک 6 سالہ بچے نے اپنی پہلی جماعت کی استانی پر فائرنگ کی تھی۔
عدالتی جیوری نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ اسکول کی سابق اسسٹنٹ پرنسپل ایبونی پارکر نے متعدد وارننگز کے باوجود بچے کے پاس موجود ہتھیار کی اطلاع کو نظر انداز کیا جو کہ “انتہائی غفلت” کے مترادف ہے۔
واقعہ 6 جنوری 2023 کو رچنیک ایلیمینٹری اسکول میں پیش آیا تھا، جب بچے نے ابیگیل زورنر پر گولی چلا دی تھی، جس سے وہ ہاتھ اور سینے میں زخمی ہوئیں۔ زورنر کے وکیل کے مطابق، کم از کم دو اساتذہ نے واقعے سے قبل پارکر کو بچے کے بیگ میں بندوق ہونے سے متعلق خبردار کیا تھا، مگر کسی کارروائی نہیں کی گئی۔
زورنر کے وکیل کےون بنیا زان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اسکول کے قواعد کے مطابق اسسٹنٹ پرنسپل پر لازم تھا کہ وہ ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری ایکشن لیتی، مگر ایسا نہ کیا گیا۔
دوسری جانب، پارکر کی وکیل سینڈرا ڈگلس نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ پر “قانونی طور پر” زورنر کی حفاظت کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، لہٰذا یہ معاملہ سنگین غفلت کے زمرے میں نہیں آتا۔عدالتی فیصلے کے بعد ابیگیل زورنر کے وکلا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ “یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ آج انصاف ہوا ہے۔”

