“اگلے مالی سال میں بلوچستان کیلئے 250 ارب روپے مختص، ترقی اور بدامنی ایک ساتھ نہیں چل سکتے”
کوئٹہ(نامہ نگار)وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بلوچستان گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام میں بلوچستان کا حصہ 250 ارب روپے ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ فنڈز شفافیت اور دیانتداری سے استعمال ہونے چاہئیں تاکہ صوبے کے عوام حقیقی ترقی کا ثمر حاصل کر سکیں۔
وزیراعظم نے کوئٹہ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ وہ بلوچستان کے عوام کے شکرگزار ہیں کہ انہیں جرگے میں شرکت کا موقع ملا اور سب کی گرمجوش میزبانی پر ممنون ہیں۔ وزیراعظم نے قومی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے 6 اور 7 مئی کو بھارت کی جانب سے پاکستان پر مبینہ حملے کا ذکر کیا، اور کہا کہ افواجِ پاکستان کی دلیری اور اعلیٰ کارکردگی نے دشمن کو فیصلہ کن شکست دی۔ اس موقع پر انہوں نے بلوچستان سمیت تمام پاکستانی عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اتحاد کا عملی مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس مختصر لیکن خطرناک جنگ میں سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی منظم قیادت میں افواج پاکستان نے جراتمندی سے کامیابی حاصل کی اور ملک کا سر فخر سے بلند کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے جوہری طاقت بننے پر جب دنیا حیران رہ گئی تھی، تو اس وقت کی قیادت نواز شریف نے دشمن کو 6 دھماکوں سے جواب دیا، اور یہی عزم آج بھی پاکستان کی طاقت ہے۔
وزیراعظم نے بلوچستان کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد بلوچستان کے اکابرین نے قائداعظم کی قیادت تسلیم کی اور رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شکوے یا اختلافات ہیں تو انہیں بھائی چارے اور باہمی احترام کے ماحول میں حل کیا جانا چاہیے۔
شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کے دشمن اور اغیار کے آلہ کار ہیں، جو ملک کی ترقی اور امن کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ حکومت، نہ افواجِ پاکستان اور نہ ہی عوام ایسے عناصر کو برداشت کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے اپنے حصے میں سے 11 ارب روپے بلوچستان کیلئے دیے، تاکہ بلوچستان کو جائز حصہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں بلوچستان میں نمایاں ترقیاتی کام ہوئے، اور موجودہ بجٹ میں بھی صوبے کی ترقی کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست عوام کو دیا گیا، اور اس بچت کو این-25 (خونی شاہراہ) کی اپ گریڈیشن کیلئےمختص کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا وسیع و عریض رقبہ سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع رکھتا ہے، اور جغرافیائی فاصلے جتنا بھی سرمایہ لگایا جائے، اس کے بغیر کم نہیں ہونگے۔ اسلئےہمیں اجتماعی طور پر ترقی، امن، اور استحکام کے سفر میں شامل ہونا ہوگا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ ان کی حکومت بلوچستان کے ساتھ معاشی یا سماجی ناانصافی کا تصور بھی نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا، “ترقی اور خوشحالی، اور بدامنی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔” ہمیں ایک ہو کر بدامنی کو شکست دینی ہے اور ایک نئےخوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھنی ہے۔

