مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے فوجداری مقدمات سے استثنیٰ کی تجویز ختم کر دی، آئینی عدالتوں کے قیام کی شق منظور
اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر 27ویں آئینی ترمیم میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کو فوجداری مقدمات سے استثنیٰ دینے کی مجوزہ شق واپس لے لی گئی۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی عدالتوں کے قیام کی شق کی منظوری بھی دے دی۔
قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیرِ صدارت ہوا۔ اجلاس میں ترمیمی بل کی تمام شقوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے وزیر اعظم کی ہدایت پر استثنیٰ کی شق واپس لینے کا اعلان کیا، جس پر چیئرمین کمیٹی نے ان کے فیصلے کو سراہا۔
کمیٹی نے زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے اور غیر فعال مقدمات کو ایک سال بعد نمٹا ہوا تصور کرنے کی تجاویز منظور کر لیں۔
مزید برآں، اے این پی نے صوبے کے نام میں تبدیلی کی ترمیم پیش کی، جس کے مطابق “خیبر پختونخوا” کو مختصر کر کے صرف “پختونخوا” رکھنے کی تجویز دی گئی۔
ایم کیو ایم کی طرف سے بلدیاتی نمائندوں کے فنڈز سے متعلق ترمیم پر اتفاق کیا گیا جبکہ بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی تجویز پر مشاورت جاری ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے استثنیٰ کی شق واپس لینے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی تجاویز پر 80 سے 85 فیصد مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور بقیہ نکات پر غور جاری ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کہا کہ انہیں آذربائیجان سے واپسی پر اس ترمیم کا علم ہوا اور انہوں نے فوراً اس کے خاتمے کی ہدایت دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ “ایک منتخب وزیراعظم کو عدالت اور عوام دونوں کے سامنے جوابدہ رہنا چاہیے۔”
27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ بل میں وفاقی آئینی عدالت (FCC) کے قیام، ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی، صوبائی کابینہ کے ارکان میں اضافے اور عسکری قیادت کے ڈھانچے میں ترامیم شامل ہیں۔
کچھ شقوں میں فوجی افسران کو تاحیات آئینی تحفظ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جنہیں فیلڈ مارشل یا اس کے مساوی عہدوں پر ترقی دی جائے۔ ایسے افسران کو وہی استثنیٰ حاصل ہوگا جو صدرِ مملکت کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت دیا گیا ہے۔

