وزیراعلیٰ توجہ فرما کر، حالات خود سدھاریں!

جب ہماری رہائش آبائی محلے اکبری منڈی تھی، ان دنوں تھانہ انچارج اچھے دوستوں میں سے تھے اور ہمارے درمیان کافی بے تکلفی بھی تھی اکثر گپ شپ ہوتی تو بعض خرابیوں کا بھی ذکر ہوتا،خان صاحب اکثر اپنی مجبوریوں کا بھی ذکر کرتے، ایک روز اچھے موڈ میں تھے تو اپنے محکمہ کے نظام کے بارے میں بتانے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ایسے تھانے کے انچارج ہیں جو خوراک اور مصالحوں کی منڈی والا ہے چنانچہ ان کو کئی فرمائشیں پوری کرنا پڑتی ہیں۔ تازہ مثال کا ذکر کرتے ہوئے بتانے لگے کہ اسی ہفتے ایک بوری چینی لے کر بھیجنا پڑی ہے کہ بڑے صاحب (آئی جی) کی بیگم صاحبہ کو دو کلو چینی کی ضرورت تھی۔ حیرت سے سوال کیا، دوکلو اور پوری بوری کا کیا سمبندھ، انہوں بتایا کہ بیگم صاحبہ نے اردلی سے کہا دو کلو چینی لاؤ۔ اردلی نے صاحب کے پی ایس او کو بتایا کہ انہوں نے نیچے ڈی آئی جی اور وہاں سے فرمائش چلتی چلتی ڈی ایس پی صاحب تک آ گئی، ہر مقام سے فون آتا اور دو کلو چینی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی اور یوں چلتے چلتے تھانے تک آنے پر یہ ایک بوری ہو چکی تھی۔

میں نے یہ حقیقی بات لکھی ہے اور یہ اس لئے کہ اوپر کی ہدایت کا آخری سطح تک کیا اثر ہوتا ہے۔ بادشاہ اور باغ کے رکھوالے والی مثال نہیں دی کہ کہیں کسی جبیں پر شکن نہ آ جائے۔اس بات کا دہائیوں بعد ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کے خلاف مہم کا نتیجہ ہوا،اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر انتظامیہ کے سربراہ کی طرف سے کوئی ہدایت آئے تو عمل کرانے والے آخری سِرے کا ردعمل کیا ہوتا ہے وہ اسی سے ظاہر ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کو مداخلت کرکے حکم جاری کرنا پڑا اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے نئی ہدایات جاری کر دیں کہ پہلے وارننگ، پھر چالان اور سولہ سالہ نوجوانوں کے لئے موٹر بائیک چلانے کا لائسنس جاری کیا جائے۔

میں گزارش کروں کہ وزیراعلیٰ نے جو فیصلہ کیا اور ٹریفک خلاف ورزیوں کا جو نوٹس لیا وہ بالکل درست تھا لیکن حقائق ذرا مختلف ہیں،اسی لئے اس فیصلے کا جو حشر ہوا وہ اب ان کے سامنے ہے کہ نیچے والوں کے ہاتھ میں استراآ گیا اور صرف دو دن کے اندر اندر تھانے بھر گئے حوالاتوں میں گنجائش نہ رہی اور کم عمر بائیک ڈرائیور اندر اور بہنیں سڑک پر کھڑی کر دی گئیں، حتیٰ کہ ایک معزز شخص کی موٹرسائیکل روکی، اس کے پاس کاغذات نہیں تھے لیکن اخباری دفتر کا شناختی کارڈ موجود تھا، اسے دھکے دے کر تھانے پہنچایا گیا، ایف آئی آر کاٹ کر حوالات میں تو بند کیا گیا مگر اس سے پہلے اس کی ”خاطر تواضع“ کرنا بھی فرائض میں شامل تھا، وہ بے گناہ آدمی دو روز تک سردی میں حوالات میں رہا اور پھر ضمانت پر باہر آیا۔

میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے جذبے اور ان کے ویژن سے متاثر ہوں اور وہ جو بڑے بڑے ترقیاتی اور بہبود انسانی کے کام کر رہی ہیں وہ قابل تعریف بھی ہیں، لیکن فرق صرف یہ ہے کہ نیچے جو سرکاری مشینری عملدرآمد والی ہے وہ کام چور ہی نہیں رشوت خور بھی ہے کہ جو احکام دیئے جاتے ہیں وہ پہلے ہی سے ان کے فرائض میں شامل ہوتے ہیں، وہ ان برائیوں کی جڑ ہیں۔ انسداد خوراک والے دکانوں سے دودھ کے نمونے نہیں لیتے۔ سپلائی والی گاڑیاں پکڑ کر دودھ ضائع کرنے کے پریس نوٹ جاری کرتے ہیں، اسی طرح ملاوٹ کے خلاف منظم مہم نہیں چلاتے اور اکا دکا مثالیں بنا کر شہرت حاصل کرتے ہیں،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تجاوزارت کے خاتمے کیلئےبہت موثر مہم چلائی اور اس کی کامیابی ڈپٹی کمشنروں اور کمشنرحضرات کی ذاتی نگرانی میں ہوئی اور پھر ریڑھی والوں کیلئےخوبصورت بازار بھی بنا دیئے اس کے باوجود اب بھی ریڑھیاں نظر آتی ہیں اور بازار بنا کر دینے کا عمل بھی مکمل صفائی نہ کر سکا کہ باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد الاٹ منٹ کی جاتی اور پھر مکمل سختی ہوتی لیکن ایسا نہ ہو سکا کہ تجاوز تو خود ایل ڈی اے اور کارپوریشن والے کراتے اور متعلقہ تھانے والوں کے اہل کار بھی بھتہ لیتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ایک اور حکم بھی جاری کیاکہ شادی ہال والوں کے لئے پارکنگ لازم، اگر نہیں تو شادی ہال نہیں، محترمہ مریم نواز کو یاد ہونا چاہیے کہ ڈیموں والے چیف جسٹس نے بھی یہ سخت حکم جاری کیا تھا اور متعدد شادی ہال بند ہو گئے تھے،پھر واویلا ہوا اور ایل ڈی اے والوں سے مک مکا ہو گیا اور شادی ہال بحال ہو گئے اور اب حالت یہ ہے کہ وحدت روڈ کے شادی ہال والے مین سڑک اور گرین بیلٹ کو پارکنگ بنائے ہوئے ہیں، گرین بیلٹوں میں بھینسیں چرتی ہیں، کیا یہ ایل ڈی اے اور پی ایچ اے کا اپنا فرض نہیں کہ وہ ان خلاف ورزیوں پر ایکشن لیں؟

ایسا ہی ٹریفک والی مہم کا حال ہوا کہ جو ٹریفک پولیس پہلے ہی ٹریفک رواں رکھنے کی بجائے چالانوں پر لگا دی گئی تھی، اسے مزید موقع ملا اور تھانوں کی پولیس بھی شامل ہو گئی یوں وزیراعلیٰ کا درست اقدام بھی شدید تنقید کی زد میں آیا اور ہائیکورٹ نے نوٹس لیا، ٹریفک وارڈنز کا اصل کام ٹریفک کی روانی اور بحالی ہے،چالان خلاف ورزی کی صورت میں ان کا فرض ہے لیکن ٹریفک کا کام چھوڑ کر چالان کرنا قانون کی کس کتاب میں لکھا ہے، میری گزارش یہ ہے کہ یہ سب خوشنودی کیلئے دو نمبر کام کرتے ہیں اپنے اصل فرائض سے اغماض برتتے ہیں ان حالات میں درستگی اور وزیراعلیٰ کا ویژن کیا کرے گا جہاں تک ٹریفک قواعد کا تعلق ہے تو ان پر خودیہ محافظ عمل نہیں کرتے، میرا خیال نہیں یقین ہے کہ اکثر وارڈن حضرات کو خود بھی مکمل قواعد کا علم نہیں ہے۔

عرض یہ ہے اور فاضل چیف جسٹس صاحبہ نے بھی ایسی ہی ہدائت دی ہے کہ پہلے ٹریفک قواعد کی آگاہی کے لئے خصوصی مہم چلائی جائے اس کے ساتھ ٹریفک وارڈنز اور ٹریفک پولیس اپنے حقیقی فرائض کو اولیت دیں،اس کے ساتھ ہی مکمل سروے کے بعد یہ جائزہ لیا جائے کہ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں کیا ہیں ان کو جدت کی روشنی میں دور کیا جائے۔ اگر یہ پولیس ”لین“ کی مکمل پابندی کرالے تو ٹریفک جام کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔

دنیا بھر میں شہری از خود پابندی کرتے ہیں اور خلاف ورزی کم ہوتی ہے جو ہو جائے وہ ڈیجیٹل نظام کے تحت کیمرے کی زدمیں آجاتی ہے اور ٹکٹ (چالان) گھر پہنچ جاتا ہے۔ براہ کرم نظام درست کریں اور یہ نیچے سے اوپر ہونا چاہیے کہ اوپر سے نیچے والا فارمولا اب نہیں چلنے والا۔