وزیراعلیٰ کے پی کی آمد پر پنجاب اسمبلی ہنگامہ، انکوائری رپورٹ سیکیورٹی اداروں کو بھیجنے کا اعلان

لاہور(وقائع نگار خصوصی)اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اعلان کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد کے دوران پیش آنے والے ہنگامے سے متعلق انکوائری رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جا سکیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ پنجاب اسمبلی ریڈ زون ہے جہاں داخلے کے لیے خصوصی اجازت یا شناختی کارڈ کی تصدیق لازمی ہوتی ہے، یہ شرائط وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو پہلے ہی بتا دی گئی تھیں اور ان کے ہمراہ آنے والے ارکان کی فہرست بھی فراہم کی گئی تھی، تاہم طے شدہ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا۔

اسپیکر کے مطابق اسمبلی میں غیر شناخت شدہ افراد کو لایا گیا جو قواعد کی خلاف ورزی ہے، روکے جانے پر سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی جس سے صورتحال کشیدہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسمبلی آنے سے نہیں روکا گیا مگر غنڈہ گردی اور تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا، جس میں سامنے آیا کہ متوقع تعداد سے زیادہ افراد وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے، متعدد افراد فہرست میں شامل نہیں تھے اور شناخت پیش نہ کر سکے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ غیر مجاز افراد میں ماضی میں سزا یافتہ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات والے افراد بھی شامل تھے۔

اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی اجلاسوں پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، رکاوٹیں عوامی وسائل کا ضیاع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی پر اعتراض جمہوری حق ہے مگر انتشار اور جلاؤ گھیراؤ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپیکر سمیت ہر شخص قواعد و ضوابط کا پابند ہے اور اسمبلی کے اندر و باہر ہونے والی تمام خلاف ورزیوں پر کارروائی کی جائے گی۔