اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) وزیرِاعظم مارک کارنی کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کیلئےمصر کے شہر شرم الشیخ جاتے وقت کینیڈین فضائیہ کا کوئی طیارہ یا عملہ دستیاب نہ ہونے کے باعث نجی چارٹر فلائٹ کے ذریعے سفر کرنا پڑا۔
وزیراعظم کے دفتر (PMO) کے مطابق یہ سفر انتہائی مختصر نوٹس پر طے ہوا، اور وہ فضائی عملہ جو عام طور پر حکومتی ایئر بس یا چھوٹے “چیلنجر” طیارے اڑاتا ہے، اس وقت دیگر ذمہ داریوں پر تعینات تھا۔ دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ چونکہ امریکی صدر کی جانب سے اجلاس ہنگامی طور پر بلایا گیا اور دعوت نامے روانگی سے محض چند گھنٹے قبل موصول ہوئے، اسلئے کینیڈین فضائیہ کا طیارہ اور عملہ دستیاب نہیں تھا۔
بیان میں بتایا گیا کہ نجی پرواز کے فیصلے سے قبل وفاقی اخلاقیات کمشنر کونراڈ فان فنکنسٹائن کے دفتر سے منظوری لی گئی۔ حکومت نے مختلف کمپنیوں سے اخراجات کے تخمینے حاصل کر کے کم لاگت والے آپشن کا انتخاب کیا، اور بتایا کہ اس نجی پرواز کا خرچ کینیڈین فضائیہ کے ایئر بس سے بھی کم تھا۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مختصر نوٹس کے باوجود کینیڈین فضائیہ کے پاس ایک بھی طیارہ کیوں دستیاب نہیں تھا۔ فلائٹ ٹریکنگ کے مطابق وزیرِاعظم کے زیرِاستعمال ایک ایئر بس طیارہ فی الحال جاپان میں موجود ہے۔
یہ صورتِ حال 1999ء کے واقعے سے مشابہ قرار دی جا رہی ہے، جب اس وقت کے وزیرِاعظم ژاں کریٹین اردن کے بادشاہ حسین کے جنازے میں شرکت نہ کر سکے تھے کیونکہ اُس وقت بھی فوجی طیارے دستیاب نہیں تھے۔
اس بار میڈیا کو بھی وزیرِاعظم کے ساتھ سفر کی اجازت نہیں دی گئی حالانکہ عموماً صحافی سرکاری دوروں میں ان کے ساتھ حکومتی طیاروں پر سفر کرتے ہیں۔ مارک کارنی اتوار کی رات کینیڈا سے روانہ ہوئے اور پیر کی صبح مصر پہنچے۔
اگرچہ دفترِاعظم نے چارٹر کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم پرواز کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ “چارٹرائٹ” (Chartright) نامی کمپنی کا بمبارڈیئر گلوبل ایکسپریس طیارہ اتوار کو اوٹاوا سے مصر کیلئے روانہ ہوا۔
شرم الشیخ میں ہونے والی امن کانفرنس میں وزیرِاعظم کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے کارنی کو غلطی سے “کینیڈا کے صدر” کہہ دیا، جس پر دونوں رہنماؤں نے مسکراتے ہوئے مختصر مکالمہ کیا، اور بعد ازاں ٹرمپ نے ہنستے ہوئے وضاحت کی کہ “میرے لئے وہ ایک شاندار رہنما ہیں، چاہے انہیں صدر کہوں یا وزیرِاعظم۔”

