ڈھاکا (نمائندہ خصوصی) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے بنگلہ دیش کے سرکاری دورے کے دوران چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس اور مشیر خارجہ ایچ ای ایم ڈی توحید حسین سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان 6 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے ڈھاکا میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کی تجدید، نوجوانوں کے درمیان روابط، تجارتی و اقتصادی تعاون، اور علاقائی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ نائب وزیراعظم نے وزیر اعظم پاکستان کی نیک خواہشات بھی پہنچائیں اور بنگلہ دیشی قیادت کی جانب سے پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔
بعد ازاں وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ توحید حسین سے ملاقات کی جس میں اعلیٰ سطح کے دورے، تجارتی و اقتصادی تعاون، ثقافتی تبادلے، تعلیم، انسانی ہمدردی اور استعداد کار میں اضافے کے منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر فلسطین کے مسئلے، روہنگیا بحران اور سارک کی بحالی جیسے علاقائی و عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ مشیر خارجہ بنگلہ دیش نے اسحٰق ڈار کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے ہمراہ نائب وزیراعظم نے مشیر تجارت شیخ بشیر الدین سے ملاقات میں اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمشنر عٹس، وائس چانسلرز، دانشوروں، صحافیوں، فنکاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔مران حیدر کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ میں وزیر خارجہ نے بنگلہ دیشی حکومت کے مشیران، سیاسی رہنماؤں، بیوروکری
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے 6 معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے جن میں سفارتکاروں اور حکومتی اہلکاروں کیلئےویزا ختم کرنے کا معاہدہ، فارن سروس اکیڈمیز کے درمیان تعاون، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) اور بنگلہ دیش سنگباد سنگستھا کے درمیان شراکت، اور انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد و ڈھاکا انسٹیٹیوٹ کے درمیان تعاون شامل ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش نے “نالج کوریڈور منصوبہ” بھی شروع کیا ہے جس کے تحت آئندہ 5 برسوں میں 500 بنگلہ دیشی طلبہ کو پاکستان میں وظائف دیے جائیں گے، جن میں ایک چوتھائی وظائف شعبہ طب کیلئےمختص ہیں۔ منصوبے کے تحت 100 سول سرونٹس کیلئےخصوصی تربیتی پروگرام اور پاکستان ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام میں بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے وظائف کی تعداد 5 سے بڑھا کر 25 کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ تقریباً 13 برس بعد کسی پاکستانی وزیر خارجہ نے ڈھاکا کا سرکاری دورہ کیا ہے۔ آخری بار نومبر 2012 میں حنا ربانی کھر نے مختصر دورہ کیا تھا۔

