اے خاصہ خاصان رسل، وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے، عجب وقت پڑا ہے
آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو ماہ مبارک ربیع الاول کی دس تاریخ ہے جب یہ سطور شائع ہوں گی تو بارہ ربیع الاول میں ایک روز ہوگا، میں ایک ادنیٰ، گناہ گار ہوتے ہوئے اس عالی مرتبت، اعلیٰ و ارفع شخصیت کے حوالے سے لکھنے کی جسارت کررہا ہوں اور ایک روز قبل تحریر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کل 6ستمبر وہ دن ہے جب فدایان رسولؐ نے رات کی تاریکی میں حملہ کرنے والے دشمن کو روکا، ملکی سرحدوں کا مکمل دفاع کیا اور دشمن کو نقصان بھی پہنچایا، میرے لئے یہ دونوں روز باعث فخر و تسکین بھی ہیں کہ میں اپنے پیارے اللہ کے آخری رسولؐ کی پاؤں کی خاک اور پاکستان کا وفادار بھی ہوں میرا بچپن حضور اکرمؐ کی تعریف و توصیف اور انؐ کی یاد میں ہونے والی محافل میں گذرا اور اسی طرح نوجوانی میں قدم رکھ کر آگے بڑھا، آج میں جو کچھ بھی ہوں، حضورؐ کی یاد والی محافل اور یوم ولادت کے حوالے سے اپنا کم تر حصہ ڈالنے کی وجہ سے ہوں، یہ مبارک دن اور ساعت پورے عالم کے لئے رحمت تھی اور ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا اور یہ یوم ان کی آمد کے باعث برکتوں اور رحمتوں والا ثابت ہوا۔
اس بار حکومت پاکستان اور اتباع میں صوبائی حکومتوں نے بھی یوم ولادت سعادت پرجوش انداز میں منانے کا اعلان اور تیاریاں کی تھیں، تاہم رضاربی کہ اسی سال ملک کو بارشوں اور زبردست سیلاب نے آ لیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ آمد رسولؐ کے حوالے سے یہ 15سوواں سال ہے اور اسی حوالے سے تقریبات ہونا تھیں، تاہم فطرت کے سامنے کسی کی مجال نہیں اور سیلاب نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس لئے عیدمیلادالنبیؐ کی خوشیاں اپنی جگہ، تاہم اب وقت دعا بھی ہے اور اللہ نے رسول اکرمؐ کے توسط سے فرمایا کہ اہل ایمان پر جب کوئی مصیبت یا پریشانی آتی ہے تو وہ صبر کرتے اور اللہ سے دعا کرتے ہیں، یقینا یہ وقت دعا ہے اور ہم سب کو اللہ کے رسولؐ کے توسط سے دعا کرنا چاہیے کہ وہ اپنی شان کریمی سے اس دکھ اور پریشانی سے نجات دلائے، بے گھروں کو پھر سے آباد کرے اور جن کے وسائل پانی میں بہہ گئے ان کو نئے وسائل سے مالامال کرے۔
اس تمام تر پریشانی اور دکھ کے باوجود یاد رسولؐ سے غافل نہیں ہیں، جہاں جہاں ممکن ہے وہاں روشنیاں بھی ہو رہی اور درود و سلام کی محافل بھی آراستہ ہیں۔ لاہور کے نواح ضرور متاثر ہوئے تاہم شہراللہ کی رحمت سے محفوظ رہا، اس لئے یہاں روشنیاں ہیں تو محافل میلادؐ بھی ہو رہی ہیں، کل (6ستمبر) نیازیں بھی بٹیں گی، روائتی جلوسوں کا سلسلہ آج (جمعہ) ہی سے شروع ہو جائے گا۔ لاہور میں کل شام یہ جلوس مزار حضرت مادھو لال حسین سے شروع ہوکر واپس وہیں پر اختتام پذیر ہوگا، یہ جلوس مغربی پاکستان اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری میاں معراج دین(مرحوم) کے والد نے شروع کیاجو اب تک جاری ہے۔ اگلے روز 6ستمبر یعنی بارہ ربیع الاول کو متعدد جلوس برآمد ہوں گے ان میں بنیادی اور مرکزی جلوس تکیہ سادھواں اندرون اکبر دروازہ سے بعد نماز عصر شروع ہوگا (بیرون دہلی دروازہ میلاد چوک) میں جمع ہو کر ترتیب پائے گا اور پھر اندرون شہر کے معروف بازاروں سے گزرتا ہوا، دربار حضرت داتا گنج بخشؒ پر اختتام پذیر ہوگا۔ دعوت اسلامی کے زیر اہتمام نماز ظہر کے بعد نوری مسجد ریلوے سٹیشن سے جلوس شروع ہو کر سرکلر روڈ کے ذریعے دربار داتا گنج بخشؒ پہنچے گا، ایک اور جلوس مرکزی مجلس عیدمیلادالنبیؐ کے زیر اہتمام صبح کے وقت ریلوے سٹیشن کے سامنے سے شروع ہو کر داتا دربار ہی پہنچے گا۔ ٹاؤن شپ،کوٹ لکھپت اور اسلام پورہ کے اپنے اپنے جلوس ہیں۔ شاہدرہ اور شمالی لاہور (شاد باغ مصری شاہ) سے بھی جلوس نکلیں گے جبکہ اندرون شہر، شمالی لاہور اور اسلام پورہ میں نیازیں بھی ہوں گی۔
میں یہ بات کئی بار لکھ اور واضح کر چکا ہوا ہوں کہ قدیمی جلوس، الحاج عنایت اللہ قادری (مرحوم) نے قیام پاکستان سے بھی پہلے شروع کیا، ابتداء میں اسے بارہ وفات کا جلوس کہا گیا کہ حضوررسالتمآبؐ کا یوم ولادت اور یوم وصال ایک ہی ہے یعنی بارہ ربیع الاول، سو بعد ازاں علماء کرام کی متفقہ رائے اور اجتماعی فیصلے کے مطابق اس یوم کو یوم میلادالنبیؐ قرار دیا گیا اور اب پوری دنیا میں یوم میلادؐ ہی منایا جاتا ہے۔
یہ مختصر سی تحریر نذرانہ عقیدت ہی ہے اور یاددہانی کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی کو بھی یاد رکھیں، تاہم ایک عرض (بصد ادب) کرنا چاہتا ہوں کہ اس بار جہاں ملک کی سلامتی و بہبود کی خاطر دعا ہوگی، وہاں اپنے سیلاب سے متاثر بھائی، بہنوں کو بھی یادرکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ کم اخراجات سے زیادہ بہتر کرکے سیلاب سے متاثرافراد سے بھی تعاون کیاجائے،خصوصی طور پر عرض کروں گا کہ قدیمی جلوس کے ساتھ میرے بزرگ علامہ ابوالحسنات بڑے شوق سے شریک ہوتے ان کے ساتھ دیگر علماء کرام بھی شریک ہوتے، یہ بڑا پاکیزہ جلوس تھا، اس میں سب شرکاء باوضو ہوتے سارے راستے درود و سلام ہوتا اور نعتیہ نذرانہ پیش کئے جانے کے علاوہ حضرت ابوالحسنات اور دیگر علماء خطاب بھی کرتے اور نماز کے وقت پر نماز بھی ادا کی جاتی۔ پھر جب جلوس میں ہجوم زیادہ ہوا اور علماء کرام کے بقول غیر شرعی حرکات شروع ہو گئیں تو ان علماء کرام نے شرکت ترک کر دی تھی، ان جلوسوں میں جو حضرات سوانگ بھرتے یا ڈآنس وغیرہ کرتے ہیں وہ گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں، بہتر عمل یہ ہے کہ جلوس پاکیزہ سے پاکیزہ تر ہوں اور کوئی غیر شرعی حرکت نہ کی جائے، تاہم حالیہ سیلاب کے حوالے سے یہ عرض کرنا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خراج پیش کرنے کے لئے بھی ادب ہی کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔
قارئینً عیدمیلادالنبیؐ 6ستمبر کو آئی ہے اور یہ ایک بڑا اتفاق بھی ہے کہ یہ یوم دفاع بھی ہے، جب اللہ نے ہمارے نوجوانوں اور بہادروں کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ انہوں نے دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا اور دفاع کا حق ادا کر دیا اس یوم ستمبر پر پوری قوم متحد تھی اور آج بھی یہی ضرورت ہے۔

