برامپٹن، اونٹاریو(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کی پارلیمنٹ میں گزشتہ ہفتے منظور ہونیوالا تاریخی قانون “ون کینیڈین اکانومی ایکٹ” ملک بھر میں متحد، شمولیتی، اور مضبوط معیشت کی تشکیل کیلئے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ قانون بین الصوبائی تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنے، قواعد و ضوابط کو ہم آہنگ بنانے، اور ملک بھر میں کاروباروں اور محنت کشوں کیلئے نئی راہیں کھولنے کیلئےتیار کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے وفاقی حکومت کے قومی اتحاد کو فروغ دینے اور یہ یقینی بنانے کے عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ ہر کینیڈین — چاہے وہ کسی بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو — معیشت کی ترقی سے یکساں طور پر مستفید ہو سکے۔
رکن پارلیمنٹ سونیا سدھو نے کہا”یہ کینیڈا کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ‘ون کینیڈین اکانومی ایکٹ’ ہماری معیشت کی مکمل صلاحیت کو اجاگر کرنے میں مدد دے گا، کیونکہ اب کینیڈین شہریوں کیلئےصوبائی و علاقائی سرحدوں سے بالاتر ہو کر کام کرنا، تجارت کرنا، اور جدت لانا آسان ہو جائے گا۔ مجھے اس حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے پر فخر ہے جو ایک مضبوط اور منسلک مستقبل کی تعمیر پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔”
وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی اس قانون کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا”آج بل C-5 یعنی ‘ون کینیڈین اکانومی ایکٹ’ کی منظوری تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرے گی، قومی تعمیراتی منصوبوں میں تیزی لائے گی، اور ترقی کی نئی راہیں کھولے گی اور اس تمام ترقی میں مقامی Indigenous شراکت کو مرکزیت دی گئی ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم بڑے خواب دیکھیں، بڑے منصوبے بنائیں، اور فوری طور پر عمل کریں۔ بطور کینیڈین، ہم خود کو وہ کچھ دے سکتے ہیں جو کوئی بیرونی طاقت ہم سے کبھی نہیں چھین سکتی۔”
یہ قانون وفاقی حکومت کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد پیداواریت کو فروغ دینا، چھوٹے کاروباروں کی مدد کرنا، اور کینیڈا کو عالمی سطح پر مسابقتی رکھنا ہے۔

