ویانا ( محمد عامر صدیق سے)یورپ کے بیس ممالک نے مشترکہ طور پر یورپی کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ ان افغان شہریوں کی وطن واپسی کیلئےفوری اقدامات کرے جو غیر قانونی طور پر یورپ میں مقیم ہیں، خواہ وہ رضاکارانہ طور پر واپس جائیں یا زبردستی بھیجے جائیں۔یہ انکشاف بیلجیئم کی وزیر برائے پناہ گزینی و امیگریشن اینلین وین بوسوٹ نےویانا میں کیا۔

یورپ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ باضابطہ واپسی کے معاہدے کی عدم موجودگی خصوصاً اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے، یورپ کیلئے ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔وہ افغان شہری جو جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں یا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، انہیں بھی قانونی خلا کے باعث واپس نہیں بھیجا جا سکتا، جس سے عوام کا یورپی پناہ گزین پالیسیوں پر اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔

یہ اقدام بیلجیئم کی قیادت میں شروع کیا گیا، جس کی حمایت یورپ کے دیگر 18 ممالک اور ناروے نے کی ہے۔
اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہیں آسٹریا، بلغاریہ، قبرص، چیک ریپبلک، ایسٹونیا، فن لینڈ، جرمنی، یونان، ہنگری، آئرلینڈ، اٹلی، لیتھوانیا، لکسمبرگ، مالٹا، نیدرلینڈز، پولینڈ، سلوواکیہ، سویڈن اور ناروے۔
بیلجیئم کی وزیر اینلین وین بوسوٹ نے کہا کہ “یورپی یونین کو اب ایک متحد پالیسی اپنانا ہو گی تاکہ وہ افغان شہریوں کو ان کے وطن واپس بھیج سکے کیونکہ غیر قانونی رہائش کے بڑھتے ہوئے کیسز نہ صرف مقامی سلامتی بلکہ پناہ گزین نظام پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی کمیشن کو چاہیے کہ وہ طالبان انتظامیہ سے واپسی کے باضابطہ معاہدے کیلئے بات چیت شروع کرے تاکہ ان افغان شہریوں کی واپسی ممکن بنائی جا سکے جن کے پاس یورپ میں رہنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔
یورپی کمیشن کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اس تجویز پر غور جاری ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ “افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال اور خواتین کی آزادیوں پر خدشات برقرار ہیں، اس لیے کوئی بھی معاہدہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔”
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ منظور ہو گیا تو اگلے چند مہینوں میں ہزاروں افغان شہریوں کو یورپ سے ان کے وطن واپس بھیجا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے ہی افغان مہاجرین کی جبری واپسی کی مخالفت کر چکی ہیں، یہ مؤقف اپناتے ہوئے کہ افغانستان میں اب بھی انسانی حقوق اور سلامتی کی صورتحال غیر یقینی ہے۔

