ٹرمپ دنیا میں تجارتی جنگ چھیڑ رہے ہیں، کینیڈا بھرپور جواب دیگا:مارک کارنی

اوٹاوا(نمائندہ خصوصی)کارنی نے ٹرمپ کے آٹو ٹیرف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ امریکہ کے تجارتی اقدامات “عالمی معیشت کو نقصان پہنچائیں گے۔”

ٹرمپ کے آٹوٹیرف کاجواب دیتے ہوئے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا “ہمیں مقصد اور طاقت کے ساتھ جواب دینا ہوگا.”

وزیرِاعظم مارک کارنی اوٹاوا میں ایک نیوز کانفرنس کیلئےپہنچے تھے تاکہ امریکی ٹیرف کے خلاف کینیڈا کے ردعمل کا اعلان کریں۔

لبرل رہنما مارک کارنی نےکہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تقریباً ہر ملک پر ٹیرف عائد کرنے کا اقدام “عالمی معیشت کو نقصان پہنچائے گا”، اقتصادی ترقی کو متاثر کریگااور اس ملک اور دنیا بھر میں کارکنوں اور کاروباروں کیلئے تباہ کن نتائج کا باعث بنے گا۔

کارنی نے کہا کہ ٹرمپ کا کینیڈیائی سامان پر عائد کردہ ٹیرف “بے بنیاد، غیر ضروری اور ہماری رائے میں غلط ہے”، ملک کو ان کے خلاف “متوازن اور ہدف شدہ جوابی اقدامات” کرنا ہوں گے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ کینیڈا اس قسم کے اقتصادی حملے کو برداشت نہیں کریگا۔

کارنی کاکہناتھا کہ حکومت امریکہ میں بنی گاڑیوں پر ٹیرف عائد کریگی جو کینیڈا-امریکہ-میکسیکو معاہدے کی شرائط کے مطابق نہیں ہیں تاکہ امریکیوں کی جانب سے کینیڈا کی آٹو انڈسٹری پر عائد کیے گئے اقدامات کا جواب دیا جا سکے۔ “ہم ایک آزاد، خودمختار اور بلند حوصلہ ملک ہیں۔ ہم اپنے گھر کے مالک ہیں۔ ہم ان ٹیرف کو ختم کرنے کیلئے لڑیں گے۔”

حکومتی تخمینوں کے مطابق، امریکی گاڑیوں پر عائد کردہ ٹیرف اربوں ڈالر مالیت کی درآمد شدہ مسافری گاڑیوں کو متاثر کریگا۔ یہ اقدام پچھلے ماہ امریکی سامان پر عائد کیے گئے جوابی ٹیرف کے بعد آیا ہے جس کا حجم تقریباً 60 ارب ڈالر تھا جو ٹرمپ کے دیگر ٹیرف منصوبوں کا بدلہ تھا۔

کارنی نے کہا کہ امریکہ کی تجارتی جنگ پہلے ہی اثرات مرتب کر رہی ہے.سیٹلینٹس اپنے بڑے ونڈسر، اونٹاریو کے آٹو اسمبلی پلانٹ کو بند کر دیگا اور تقریباً 3200آٹورکروں کو ٹرمپ کے کینیڈا میں بنی گاڑیوں پر عائد کردہ ٹیرف کی وجہ سے بے روزگار ہوناپڑیگا۔

کارنی نے کہا کہ حکومت توقع کر رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کینیڈیائی لکڑی، فارماسیوٹیکلز اور سیمی کنڈکٹرز پر مزید ٹیرف عائد کیے جائیں گے کیونکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں “قومی دفاع” کے نام پر ان مصنوعات پر ٹیکس لگانا ضروری ہے۔

وزیرِاعظم مارک کارنی نےاوٹاوا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر عائد کردہ ٹیرف دنیا بھر میں اثرات مرتب کریں گے۔ کارنی نے تصدیق کی کہ امریکہ سے کینیڈا پر حالیہ جوابی ٹیرف نہیں عائد کیے جائیں گےلیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے مختلف شعبوں پر موجودہ ٹیرف “بے بنیاد، غیر ضروری اور ہماری رائے میں غلط ہیں۔”

کارنی نے کہا کہ اوٹاوا “اپنی پوری طاقت کے ساتھ” کارکنوں کی حفاظت کرے گا، بشمول مالی امداد فراہم کرنے کے اور وعدہ کیا کہ وہ امریکی سامان پر عائد کردہ ٹیرف سے حاصل ہونے والی تمام رقم ان ملازمین کی مدد کیلئے استعمال کرینگےجو آنے والے ممکنہ طور پر مشکلات بھرے وقت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

کینیڈا کے سابق گورنر مارک کارنی نے کہا کہ امریکی ٹیرف امریکی معیشت کیلئے بڑے پیمانے پر خلل ڈالیں گے ترقی سست ہوگی حالانکہ قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور وہاں ممکنہ طور پر جلد کساد بازاری آ سکتی ہے جس کا اثر کینیڈا پر بھی پڑ سکتا ہے۔

کارنی نے کہا کہ ٹرمپ عالمی تجارتی نظام کو توڑ رہے ہیں اور کینیڈا کو اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے ایک نیا رخ اپنانا ہوگا ساتھ ہی “قابل اعتماد” تجارتی شراکت داروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا ہونگے جن میں کامن ویلتھ کے ممالک جیسے آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ میکسیکو، فرانس اور یورپ اوردیگرممالک کوشامل ہیں.

“عالمی معیشت آج کل کی نسبت بالکل مختلف ہے،” کارنی نے کہا، “ہمیں اپنے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے ہونگے، ہمیں وہ کام کرنا ہونگے جو پہلے ناممکن سمجھے جاتے تھے اور وہ بھی ایسی رفتار سے جو ہم نے پچھلے کئی نسلوں میں نہیں دیکھی۔” انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ داخلی تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرینگےاور ایک عظیم تعمیراتی پروگرام کے ذریعے اقتصادی ترقی کو تیز کریں گے۔

“ہم اب ایک نئے دور میں رہ رہے ہیں۔ یہ کینیڈا کیلئےمشکل ہوگا لیکن مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم اس چیلنج کا مقابلہ کرینگے،” انہوں نے کہا، اور مزید کہا کہ ملک ماضی میں بھی لگ بھگ ناقابل عبور رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے متحد ہو چکا ہے اور دوبارہ یہ کر سکتا ہے۔

کارنی نے کہا کہ کینیڈا کا “پرانا تعلق” امریکہ کے ساتھ “ختم ہو چکا ہے” اور امریکہ کے ساتھ زیادہ مربوط ہونے کی دہائیوں پر محیط کوشش اب ختم ہو جائیگی کیونکہ ٹرمپ نے کینیڈا پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

لیکن کارنی نے کہا کہ آئندہ وفاقی انتخابات کے بعد اقتصادی اور سیکیورٹی کے معاملات پر ٹرمپ کے ساتھ کسی نہ کسی نوعیت کے معاہدے تک پہنچنے کا ابھی بھی موقع موجود ہے۔

کارنی نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے بعد اگر وہ انتخابات جیتتے ہیں CUSMA (کینیڈا-امریکہ-میکسیکو معاہدہ) کی دوبارہ بات چیت کرینگے جو صدر کی تجارتی جنگ کی وجہ سے اب تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔

ٹرمپ کا تین سطحی ٹیرف پالیسی

ٹرمپ امریکی معیشت کو جڑ سے بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے تین سطحی ٹیرف پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

1.وہ “جوابی” ٹیرف ہیں جو ٹرمپ نے بدھ کے روز دیگر کئی ممالک پر عائد کیے، سوائے کینیڈا اور میکسیکو کے۔

2. “سیشن 232” ٹیرف ہے جو پہلے ہی کینیڈا کی اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد کیے جا چکے ہیں اور گزشتہ رات سے یہ آٹوموبائل پر بھی عائد کر دیے گئے ہیں۔

3.وہ 25 فیصد سرحدی ٹیرف ہے جو تقریباً تمام مصنوعات پر عائد کیا گیا ہے تاکہ کینیڈا کو سزا دی جا سکے کیونکہ صدر کے مطابق یہ ایک “ایمرجنسی” ڈرگ کرائسز ہے جو شمال سے آنے والے فینٹینائل سے بڑھ رہی ہے۔

کارنی نے جمعرات کو کہا کہ ٹیرف کیلئےفینٹینائل کی وجہ پیش کرنے کا جواز اسلئے نہیں بن سکتا کیونکہ شمالی سرحد پر کینیڈا کے ایک ارب ڈالر کے سرحدی پیکج کے باوجود فینٹینائل کی اتنی کم مقدار ہی ضبط کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے پاس اب بھی امریکہ کے کانگریس میں اتحادی ہیں اور دونوں جماعتوں کے امریکی سینیٹرز کی تعریف کی جنہوں نے ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا جس میں ٹرمپ کو “ایمرجنسی” منشیات سے متعلق ٹیرف عائد کرنے کے اختیار سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔یہ قرارداد ایوان بالا سے منظور ہو گئی لیکن اس کا ریپبلکن کنٹرول شدہ ایوانِ نمائندگان میں گزرنے یا ٹرمپ کے ویٹو سے بچنے کا کوئی خاص امکان نہیں۔

کارنی نے کہا کہ وہ ووٹ “ایک علامتی لیکن اہم طور پر حقیقت اور یکجہتی کا اظہار تھا۔”

اپنا تبصرہ لکھیں