ٹرمپ نے ٹام ہومین کو منیاپولس بھیج دیا، وفاقی بارڈر پیٹرول افسر جلد ریاست چھوڑینگے

واشنگٹن/منیاپولس (سی بی ایس نیوز، رائٹرز )امریکا میں وفاقی امیگریشن انقلابی حکمت عملی کے خلاف بڑھتے عوامی احتجاج اور قانونی/سیاسی دباؤ کے درمیان منیاپولس میں تعینات یو ایس بارڈر پیٹرول کے کمانڈر گریگوری بووینو اور چند دیگر ایجنٹس جلد منیاپولس سے واپس اپنے متعلقہ شعبوں کو جانے کی توقع ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی اقدام کے ردعمل میں بارڈر ‘سزار’ ٹام ہومین کو ریاست منی سوٹا بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ تبدیلی گزشتہ ہفتے منیاپولس میں وفاقی امیگریشن حکام کی طرف سے ایک امریکی شہری ایلکس پریٹی کے قتل کے بعد سامنے آئی ہے، جو دوسری تازہ ہلاکت سمجھی جا رہی ہے جس میں وفاقی دستوں کی مداخلت کے دوران گولی چلی۔ اس واقعے نے مقامی احتجاج، سیاسی ردعمل اور قانونی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے منیاپولس کے گورنر ٹم والز کے ساتھ بات چیت کی تصدیق کی ہے اور دونوں نے وفاقی امیگریشن عمل کی تشدید یا کمزور کرنے پر مل کر کام کرنے کا اظہار کیا ہے، جس سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ بارڈر پیٹرول اور ICE کے افسران کی تعداد میں تبدیلی یا حکمت عملی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

ٹام ہومین، جو وائٹ ہاؤس کے بارڈر کزان کے طور پر جانے جاتے ہیں، کو وہاں ایم آئیگریکشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے آپریشنز کی نگرانی کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، جب کہ بووینو کا کردار منیاپولس میں پچھلے چند ہفتوں سے سامنے تھا۔ ہومین براہِ راست صدر کو رپورٹ کریں گے اور وفاقی کارروائیوں کو منظم کرنے کی کوشش کریں گے۔

یہ صورتحال امریکی شہریت اور قانون نافذ کرنے والے اقدامات کے اطلاق پر جاری تنازعہ کو مزید تقویت دے رہی ہے، کیونکہ ریاست اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات، عدالتوں میں کیسز، اور عوامی احتجاج تیز تر ہو چکے ہیں۔